ایم اے جناح روڈ پر میجر ثاقب کے قتل کے واقعہ پر پریس کانفرنس
کراچی: آرام باغ تھانے کی حدود میں 6جون کو میجر ثاقب اقبال کو قتل کیا گیا، ڈی آئی جی کا کہنا تھا کہ یہ بہت مشکل کیس تھا، کیس کو حل کرنے میں بہت وقت لگا، مختلف مقامات کی سی سی ٹی وی لی گئی تھیں، ایک سی سی ٹی وی منظر عام پر آئی جس میں صرف فائرنگ کرنے والا شخص نظر آیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ کمانڈ اینڈ کنٹرول کی سی سی ٹی میں دوسرا شخص بھی موٹرسائیکل پر نظر آیا، ٹیکنیکل سپورٹ کی مدد سے دو موبائل نمبر سامنے آئے تھے جن میں سے ایک محمد نعمان اور دوسرا عمر فاروق کے نام پر رجسٹر تھا۔
ڈی آئی جی ایسٹ نے بتایا کہ محمد نعمان نے میجر ثاقب سے لوٹ مار کے دوران فائرنگ کی، عمر فاروق واردات میں موٹرسائیکل چلا رہا تھا، دونوں ملزموں کو سائٹ سپر ہائی وے سے گرفتار کیا گیا، دونوں ملزم کے پی ٹی کے مزدور تھے جنہوں نے تفتیش کے دوران اپنی واردات کا اعتراف کیا، ملزموں نے عید پر پیسوں کے لیے واردات کی تھی، دونوں کا کوئی خاص کرمنل ریکارڈ نہیں ہے۔
گرفتار ملزمان کا تعلق لیاری گینگ وار سے ہے ، نعمان نامی گینگ وار ملزم نے میجر پر فائر کیا ، واردات میں ملزم کا ساتھی فاروق نعمان کے ہمراہ تھا ، دونوں ملزمان ڈیلی ویجز پر کے پی ٹی میں کام کرتے ہیں ، ملزمان کا جیو فینسنگ سے ریکارڈ حاصل کیا ، ملزمان نے اپنا اسلحہ واردات کے بعد نالے میں پھینک دیا ، ملزمان کے قبضے سے واردات میں استعمال ہونے والی موٹر سائیکل برآمد کرلی گئی، ایس ایچ آؤ فیروز آباد اورنگ زیب خٹک نے انتھک محنت سے کیس حل ہوا، ملزمان کی گرفتاری سائٹ سپر ہائی وے کے علاقے سے عمل میں آئی۔
