کراچی: سندھ ہائیکورٹ میں پیپلز پارٹی رہنما اور سابق رکن قومی اسمبلی نبیل گبول کی زمین پر مبینہ قبضے کا معاملے کے کیس کی سماعت ہوئی جس میں کراچی یونیورسٹی کے وکیل نے عدالت میں جواب جمع کرایا۔
وکیل کے یو نے جواب میں مؤقف اختیار کیا کہ مذکورہ زمین ہمیں 1954 میں اس وقت کے چیف کمشنر کراچی نے الاٹ کی تھی۔
جواب میں بتایا گیا کہ متعلقہ اداروں نے 2009 زمین کی تصدیق بھی کی۔ جج سے استفسار کرتے ہوئے نبیل گبول نے کہا کہ یونیورسٹی انتظامیہ نے اپنے جواب میں اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ زمین درخواست گزار کے پاس ہے یا نہیں، ایڈیشنل ایڈووکیٹ جنرل کی جانب سے سماعت ملتوی کرنے کی استدعا کی گئی۔
سرکاری وکیل نے عدالت کو آگاہ کیا کہ لینڈ یوٹیلازیشن ڈیپارٹمنٹ اور دیگر اداروں کی جانب سے جواب جمع نہیں کرایا گیا، فریقین کا جواب آنے تک سماعت ملتوی کی جائے، عدالت نے درخواست کی مزید سماعت 4ہفتوں کے لئے ملتوی کردی، جسٹس حسن اظہر رضوی کی سربراہی میں دو رکنی بینچ نے سماعت کی، نبیل گبول نے زمین پر کراچی یونیورسٹی انتظامیہ کی جانب سے مبینہ قبضے کے خلاف درخواست دائر کر رکھی ہے۔
نبیل گبول نے درخواست میں مؤقف اختیار کیا کہ میری والدہ کی 4 ایکڑ زمین پر جامعہ کراچی نے قبضہ کرلیا ہے، بار بار درخواستوں کے باوجود انتظامیہ قبضہ خالی نہیں کروارہی،
والدہ کے انتقال کے بعد 4 ایکڑ زمین کے مالک میں اور میرے بہن بھائی ہیں، نبیل گبول
