شہر قائد کے علاقے کورنگی کی رہائشی ہما مسیح کے اغواء کا ڈراپ سین ہوگیا، ہما نے اسلام قبول کر کے اپنا نام مہک رکھا اور عبدالجبار نامی شخص سے نکاح کرلیا۔
اغوا قرار دی جانے والی مہک نے ویڈیو بیان جاری کیا جس میں اُس نے اپنی مرضی سے اسلام قبول کرنے اور نکاح کرنے کا اعتراف کیا،ویڈیو میں مہک نے یہ بھی اعتراف کیا ہے کہ وہ اپنی مرضی سے گئی ہے اسے کسی نے اغواء نہیں کیا تھا، مہک کا نکاح نامہ بھی منظرِ عام پر آگیا۔
ذرائع نمائندے کے مطابق مہک اور عبدالجبار کا نکاح 10 اکتوبر 2019 کو باہمی رضا مندی سے طے پایا، مہک کے والد کی جانب سے 12 اکتوبر 2019 کو تھانہ کورنگی میں ہما مسیح کے اغواء کا مقدمہ درج کیا گیا تھا، مہک کی والدہ نے سوشل میڈیا میں ایک ویڈیو بیان جاری کیا، جس میں انہوں نے اپنی بیٹی کے اغواء کا ذکر کیا، مہک کی والدہ نے ویڈیو میں کہا کہ ایک ماہ سے زائد کا عرصہ گزر گیا پولیس تعاون نہیں کررہی ہے میری بیٹی کو بازیاب نہیں کروا رہی ہے۔

ذرائع کے مطابق نکاح کرنے کے بعد مہک نے اپنے گھر والوں سے مسلسل رابطے میں تھی، لڑکی نے اپنا نکاح نامہ اپنے والد کو بذریعہ واٹس ایپ سینڈ کی، اپنی ویڈیو بھی اپنے والد کو بذریعہ واٹس ایپ سینڈ کردی تھی۔ ذرائع نے یہ بھی بتایا کہ مہک اپنے شوہر عبدالجبار کے ساتھ لاہور اور اسلام آباد میں سیر و تفریح کررہی تھی، سیر وتفریح کرنے والی ویڈیو بھی والدین کو سینڈ کردی تھی، 6 نومبر 2019 کو پولیس پارٹی اعلیٰ افسران کی ہدایت پر ملتان روانہ ہوئی، ذرائع نے مزید بتایا کہ 8 نومبر 2019 کو پولیس نے نامزد ملزم کے مقدمے کے گواہ ظہور احمد ولد منظور احمد کو گرفتار کرلیا تھاجسکو پولیس پارٹی گرفتار کرکے اپنے ساتھ کراچی لے آئی جنہیں جیل منقتل کیا گیا۔
ذرائع نے مزید بتایا کہ مہک اور اس کا شوہر عبدالجبار کراچی سے آئے پولیس کی اطلاع ملتے ہی وہاں سے کسی دوسرے شہر چلے گئے تھے، مہک نے اسی دوران ملتان کے کورٹ سے استغاثہ بھی حاصل کرلیا تھا، مہک اور عبدالجبار اور ان کے فیملی کے درمیان تعلقات اچھے تھے، مہک اس کی والدہ اور عبدالجبار ٹک ٹاک کی ایک ویڈیو میں خوشگوار موڈ میں نظر آرہے ہیں۔
