کراچی : ایم کیوایم کے رہنما مصطفیٰ کمال نے کہا ہے کہ ملک میں رہنے والے ہر انسان کو حقوق حاصل ہوتے ہیں،پاکستان کی عدلیہ،اسٹیبلشمنٹ اور بزنس کمیونٹی کو آواز لگارہا ہوں سندھ کے شہری علاقوں کے لوگوں کے ساتھ حق تلفی ہورہی ہے،سندھ کے 23 اضلاع سے 21 اضلاع پیپلز پارٹی کے پاس ہیں،پیپلز پارٹی دو اضلاع کے میئر دینے کو بھی تیار نہیں،چیف الیکشن کمیشن نے سڑک پر ٹھپے لگتے نہیں دیکھے،کراچی کے 53 حلقے دوبارہ شامل کیے جائیں، نئی حلقہ بندی کے بعد الیکشن کالعدم قرار دیا جائے،نیا الیکشن ایک ماہ میں کروایا جائے۔
احتساب عدالت میں کے باہر میڈیاکے نمائندوں سے بات کرتے ہوئے مصطفی کمال نے کہا کہ ہر الیکشن کے بعد لوگ نظام سے بدظن ہورہے ہیں،کراچی حیدرآباد میرپورخاص میں آبادی کو شمار نہیں کیا گیا،کراچی کی 70 یوسیز کم کردی گئیں،سندھ حکومت نے 53 یوسیز کی کمی کو مانا ہے۔
انہوں نے کہاکہ حیدرآباد میں نئی حلقہ بندیوں کے بعد شہری علاقے سے میئر نہیں آسکتا،ایم کیو ایم اور اردو بولنے والوں کے علاقوں میں نوے ہزار لوگوں ہر مشتمل ایک یوسی بنائی گئی ہے جبکہ دوسرے لوگوں کی یوسی صرف پندرہ ہزار شہریوں ہر مشتمل ہے،دونوں یوسیز کو برابر فنڈ ملے گا،خدارا سندھ کے شہری مراکز کے مسائل کو سمجھا جائے،اگر لاوا پھٹا تو بلوچستان جیسی صورتحال ہوسکتی ہے،کیا ہمارے میئر کے پاس فوج یا خارجہ پالیسی کا کنٹرول آجاتا؟۔
مصطفیٰ کمال کاکہناتھاکہ میں کیسا پاکستانی ہوں کہ مجھے شہر کا کچرا اٹھانے کا اختیار دینے کو بھی تیار نہیں،کراچی حیدرآباد کا میئر چھین کر کیا پاکستان کو فائدہ ملا ہے،ہم سے پینے کی پانی کا اختیار نہیں چھینو، ،سپریم کورٹ سے دوبارہ رجوع کررہے ہیں ۔
