Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
دعا منگی ، سوشل میڈیا پر ایک طبقہ لڑکی کو قصور وار ٹھہرانے لگا، اغوا کی ویڈیو | زرائع نیوز

دعا منگی ، سوشل میڈیا پر ایک طبقہ لڑکی کو قصور وار ٹھہرانے لگا، اغوا کی ویڈیو

کراچی: شہرکے پوش علاقے ڈیفنس سے تین روز قبل نوجوان لڑکے کو زخمی کر کے ملزمان نوجوان لڑکی دعا منگی کو اغوا کر کے اپنے ہمراہ لے گئے، تین روز بعد ہی تفتیش میں کوئی پیشرفت نہیں ہوئی اور سوشل میڈیا صارفین نے اپنے اغوا کا ذمہ دار خود دعا کو قرار دے دیا۔

تین روز قبل پیش آنے والے واقعے کے بعد زخمی نوجوان کے والد نے درخشاں تھانے میں مقدمہ درج کرایا، درخواست کے متن میں کہا گیا ہے کہ ڈیفنس فیز 6 بخاری کمرشل میں ایک گاڑی میں سوار چار سے پانچ ملزمان آئے اس دوران دعا اور اُن کا بیٹا حارث چہل قدمی کررہے تھے، ملزمان نے لڑکی کو ساتھ لے جانے کی کوشش کی تو حارث نے مزاحمت کی اور جس پر انہوں نے فائرنگ کر کے نوجوان لڑکے کو زخمی کردیا۔

درخشاں تھانے میں لڑکی کے اغوا اورنوجوان کو فائرنگ کرکے زخمی کرنے کے واقعہ کا مقدمہ دفع نمبر19/771 بجرم دفعہ اقدام قتل اوراغوا کے دفعات کے تحت چورہدری خلیق الزمان روڈ پرواقع برج ویو پارٹمنٹ کے رہائشی زخمی نوجوان کے والد عبدالفتح ولد محمد شعبان کی مدعیت میں نامعلوم ملزمان کے خلاف درج کرلیاگیا۔ پولیس حکام نے واقعے کی تفتیشی کے لیے آپریشنزاورانویسٹی گیشن پولیس کے افسران پرمشتمل خصوصی ٹیم تشکیل دے دی ہے اورتفتیشی پولیس نے عینی شاہد رکشہ ڈرائیورکا بیان بھی قلمبند کر لیا جس کے مطابق اس نے صرف فائر کی آواز سنی اور جب وہ فائرنگ کے مقام کی جانب ڈورا تو اس کے ساتھ ایک سکیورٹی گارڈ بھی موجود تھا۔

ایکسپریس نیوز کے رپورٹر کو ذرائع نے نام ظاہر نہ کرنے کی شرط پر بتایا کہ ’دعا کچھ عرصہ قبل بیرون ملک گئی ہوئی تھی جہاں مظفر نامی اس کا دوست تھا ، وطن واپس آنے کے بعد دونوں کے درمیان کچھ دوریاں ہوگئیں جس سے مظفر دلبرداشتہ تھا ، فیملی کے قریبی ذرائع نے ایکسپریس کو بتایا کہ وطن واپس آنے کے بعد مختلف تقاریب میں مظفر بھی شریک رہا لیکن دونوں کے درمیان بات چیت نہیں ہوتی تھی ، وقوعہ سے چند روز قبل بھی ایک تقریب میں دونوں ملے تھے جس میں مظفر نے اسے منانے کی کوشش کی تھی ، وقوعہ کے وقت بھی دعا ایک تقریب میں گئی تھی‘ ۔

’’دعا حارث سے ملی اور شبہ ظاہر کیا جارہا ہے کہ مظفر بھی اس بات سے آگاہ تھا کہ دعا وہاں پہنچے گی ، ممکنہ طور پر مظفر دعا پر نگاہ رکھے ہوئے تھا ،پولیس حکام کا کہنا ہے کہ پولیس ہر زاویے سے تحقیقات کررہی ہے ، مظفر کے علاوہ بھی کچھ اور معاملات تفتیش میں زیر غور ہیں ، فوری طور پر اغوا سے متعلق کوئی ٹھوس بات نہیں کہی جاسکتی جبکہ کسی قسم کے تاوان کے سلسلے میں بھی کوئی ٹیلی فون کال موصول نہیں ہوئی ‘‘۔

https://www.facebook.com/DawnNews/videos/1007012489649167/

انسانی حقوق کے لیے کام کرنے والے سماجی رہنما اور وکیل جبران ناصر نے بھی ٹویٹر پر دعا کی تصویر شیئر کرتے ہوئے لکھا کہ ’دعا منگی بہت ہونہار طالبہ تھی، میری گزشتہ سال الیکشن مہم کے دوران ملاقات ہوئی، اسے گزشتہ رات چائے ماسٹر خیابان بخاری سے اغوا کر لیا گیا جبکہ حارث کو زخمی کردیا گیا، اغوا کار ابھی تک ٹریس نہیں ہوئے اور لڑکا بھی ابھی پولیس کو بیان دینے کی حالت میں نہیں ہے، اگر کسی کو دعا کے حوالے سے کوئی بات معلوم ہو تو مطلع کرے۔

https://twitter.com/AyeshaAgenda/status/1201304401501130752?s=20

اب سے کچھ دیر قبل سعید غنی نے بتایا کہ وزیراعلیٰ سندھ نے دعا منگی کے اغوا کا نوٹس لیتے ہوئے اُسے فوری طور پر بازیات کرنے کے احکامات جاری کردیے۔

Image