کراچی: اے آر وائی نیوز کے سی ای او سلمان اقبال نے جنگ جیو کے مالک میرشکیل الرحمان کی گرفتاری پر خاموشی توڑتے ہوئے افسوس کا اظہار کردیا۔
سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر سلمان اقبال کا کہنا تھا کہ میرے خلاف 2015 میں انسداد دہشت گردی کا مقدمہ درج کیا گیا اور غلط ثابت ہونے پر ختم کی گئی، بول ٹی وی کے مالک کو 2015 میں جیل جاتا دیکھ کر تکلیف ہوئی، اس دوران سب خاموش رہے اور خوشی سے پھولے نہیں سما رہے تھے، میڈیا کے تحفظ کا ذمہ دار ادارہ پاکستان براڈ کاسٹ ایسوسی ایشن بھی میرے خلاف ہوگیا تھا اور اب بھی ہے۔
Yesterday MSR of geo was arrested , I believe in accountability and the rule of law but at the same time images of his arrest were painful for me. I sincerely hope his case is dealt on merit as per law without victimisation. 2/2
— Salman Iqbal ARY (@Salman_ARY) March 13, 2020
اُن کا کہنا تھا کہ شکیل الرحمان کی تصاویر میرے لیے تکلیف دہ ہیں، میں احتساب اور قانون پر مکمل یقین رکھتا ہوں اور امید کرتا ہوں کہ قانون کے تحت سارے معاملات حل ہوں گے۔
In 2015 an FIR under ATA was lodged against ME ,later on proved wrong and quashed,rest of the media watched , stayed quiet! It was painful to see owner of BOL go to jail in 2015,some even rejoiced,And than PBA which was suppose to protect media went against us! And still is 1/2
— Salman Iqbal ARY (@Salman_ARY) March 13, 2020
یاد رہے کہ جمعرات کے روز جنگ اور جیو کے مالک کو نیب نے غیر قانونی اراضی کیس میں گرفتار کیا اور گزشتہ روز احتساب عدالت سے اُن کا گیارہ روزہ جسمانی ریمانڈ لیا، ایک روز قبل ہی میر شکیل کی دورانِ حراست تصاویر سامنے آئیں۔
عدالت میں پیشی کے موقع پر صحافیوں سے گفتگو کرتے ہوئے میر شکیل کا کہنا تھا کہ نیب والوں نے مجھے چھوٹے سے کمرے میں رکھا ہوا ہے، جبکہ تین موبائل بھی ضبط کرلیے۔ دوسری جانب امریکا نے بھی میر شکیل الرحمان کی گرفتاری کے خلاف احتجاج ریکارڈ کرایا اور حکومت وقت سے مطالبہ کیا کہ وہ معاملات کو قانون کے مطابق حل کرے۔
https://twitter.com/AbdulqadirARY/status/1238759909359042561?s=20
