Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
قومی اقلیتی کمیشن میں‌ قادیانی ممبران کی شرکت پر گفتگو ہوئی مگر .... وفاقی وزیر مذہبی امور نے خاموشی توڑ‌ دی | زرائع نیوز

قومی اقلیتی کمیشن میں‌ قادیانی ممبران کی شرکت پر گفتگو ہوئی مگر …. وفاقی وزیر مذہبی امور نے خاموشی توڑ‌ دی

قومی اقلیتی کمیشن میں‌ قادیانی ممبران کی شرکت پر گفتگو ہوئی مگر …. وفاقی وزیر مذہبی امور نے خاموشی توڑ‌ دی

ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں،قادیانیوں کو قومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی،حساس معاملات کو چھیڑنے سے گریز کیا جائے۔نورالحق قادری

حکومت کی جانب سے قادیانیوں کو قومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے کے معاملے پر وضاحت سامنے آگئی ہے۔وفاقی مذہبی امور نورالحق قادری نے وضاحت پیش کرتے ہوئے کہا ہے کہ قومی اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کی شمولیت پر کابینہ میں بحث ہوئی۔تاہم اس حوالے سے ابھی تک فیصلہ نہیں ہوا ہے۔نور الحق قادری کا کہنا تھا کہ قادیانی آئین پاکستان کے مطابق غیر مسلم ہیں, آئین اور دستور کو ماننے والے کو ہی کسی کمیٹی یا کمیشن میں شامل کیا جائے گا۔

اُن کا کہنا تھا کہ قادیانیوں کو قومی اقلیتی کمیشن میں شامل کرنے یا نہ کرنے کا فیصلہ وفاقی کابینہ کرے گی، معاملے کے تمام پہلوؤں پر غور و فکر کیا جائے گا، عقیدہ ختم نبوت ہمارے ایمان کا مرکزی نقطہ ہے اس پر سمجھوتہ ممکن نہیں، جو بھی فیصلہ ہو گا عقیدہ ختم نبوت کے تحفظ کے لیے ہو گا۔

نورالحق قادری نے کہا کہ میں ختم نبوت کے معاملے پر ہر حد کو جانے کو تیار ہوں، حساس معاملات کو چھیڑنے سے گریز کیا جائے۔ نورالحق قادری نے کہا کہ ایسی خبروں میں کوئی صداقت نہیں۔ جب کہ اے پی پی کی رپورٹ کے مطابق وفاقی وزیر مذہبی امور پیر نور الحق قادری نے اقلیتی کمیشن سے متعلق خبروں کی سختی سے تردید کرتے ہوئے کہا ہے کہ حکومت پاکستان ایسی خبروں کی سختی کے ساتھ تردید کرتی ہے کہ قومی اقلیتی کمیشن میں قادیانیوں کی شمولیت کا فیصلہ کر لیا گیا ہے۔

بدھ اور جمعرات کی درمیانی شب سحر کے وقت یہاں سے جاری اپنے بیان میں انہوں نے کہا کہ قادیانی آئین اور دستور پاکستان کے مطابق غیر مسلم ہیں لہذا ان کو کسی بھی کمیشن یا کمیٹی میں بطور مسلم یا غیر مسلم نمائندہ شامل نہیں کیا جا سکتا۔ حکومت پاکستان کا موقف واضح ہے کہ کسی بھی گروہ یا جماعت کو اسی صورت آئینی اور دستوری اداروں میں شامل کیا جا سکتا ہے جب وہ آئین اور دستور کو تسلیم کریں۔

اُن کا مزید کہنا تھا کہ قادیانی جماعت آئین اور دستور کو تسلیم کر کے ہی پاکستان کی کسی کمیٹی یا کمیشن میں شامل ہو سکتی ہے۔ پیر نور الحق قادری نے کہا کہ پاکستان کا آئین اور دستور سپریم ہے۔ پوری قوم اور حکومت اسی آئین اور دستور کے تابع ہے، حکومت سے کسی بھی غیر آئینی غیر دستوری عمل کی توقع نہیں کی جانی چاہئے۔