شہید امجد صابری کی شہادت کو چار سال بیت گئے، آج بھی اہل خانہ انصاف کے منتظر ہیں۔
امجد صابری کو چار سال قبل 16 رمضان المبارک کو لیاقت آباد 10 نمبر پر فائرنگ کا نشانہ بناکر شہید کیا گیا تھا۔
قانون نافذ کرنے والے اداروں نے اس قتل کا فوری الزام ایم کیو ایم پر عائد کیا تھا اور لیاقت آباد کے سیکٹر انچارج شہزاد کو گرفتار کر کے لاپتہ بھی کیا تھا۔
بعد ازاں شہزاد کو پی ایس پی کابینہ نے بازیاب کروایا اور پھر وہ پی ایس پی کے لیے کام بھی کرتے نظر آئے، پھر پولیس نے لشکر جھنگوی سے تعلق رکھنے والے دو شرپسندوں کو امجد صابری قتل کیس مین گرفتار کیا۔
گرفتار ہونے والوں میں عاصم کیپری اور اسحاق بوبی شامل تھا، دونوں ملزمان دیگر جرائم میں سینٹرل جیل میں قید ہیں البتہ امجد صابری کیس کا ٹرائل مکمل نہیں ہوا ہے
ان چار سالوں میں حکومتوں نے امجد صابری کے اہل خانہ کے لیے امداد کا وعدہ کیا مگر وہ بھی وفا نہ ہوسکا اور اب صورت حال یہ ہے کہ امجد صابری کے بھائی اور ہمنوا معاشی تنگ دستی میں گھر چکے ہیں اور ان کی پریشانیوں کا مداوا کرنے والا کوئی نہیں ہے۔
