Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کراچی میں فرقہ واریت کی منصوبہ بندی ناکام، علما بروقت میدان میں آگئے | زرائع نیوز

کراچی میں فرقہ واریت کی منصوبہ بندی ناکام، علما بروقت میدان میں آگئے

*تاریخ ساز علماء کنونشن کا اعلامیہ*

کراچی
آج بتاریخ تین ستمبر 2020ء بروز جمعرات کو تاریخ ساز علماء کنونشن مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان(سربراہ کراچی علماء کمیٹی ) کی صدارت میں منعقد ھوا۔جس میں کراچی بھر کی مساجد کے آئمہ و خطباء اور دینی جماعتوں و تنظیموں کی نمائندہ شخصیات نے شرکت کی۔
یہ اھم اجتماع دس محرم الحرام کے جلوسوں میں بعض ذاکرین خصوصا کراچی میں تقی جعفر نامی شخص کی جانب سے صحابہ کرام رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کی شان میں نام لیکر لعن طعن اور گستاخی کا ارتکاب کیا گیا،اشتعال انگیز اور مذھبی تعصب ومنافرت پہ مبنی یہ تقریر سوشل میڈیا اور الیکٹرانک میڈیا کے بعض چینل کے ذریعہ لائیو بھی نشر ھوئی،جس سے دنیا بھر کے مسلمانوں کے جذبات مجروح ہوئے۔اسی طرح ملک دیگر شہروں میں بھی اسی قسم کی تقاریر سے امن وامان اور ملک کو عدم استحکام کے ساتھ فرقہ وارانہ آگ میں دھکیلنے کی ایک سوچی سمجھی سازش کا احساس ھر محب وطن کو ھورھا ہے۔اس منفی متعصابہ رویہ کی روک تھام کیلئے حکومت کی جانب سے عملی اقدامات نہ کرنا بھی المیے کا باعث ہے۔
آج کے اس نمائندہ علماء کنونشن اور کراچی علماء کمیٹی کے اجلاس میں متفقہ طور چند فیصلے،قراردادیں اور حکومت سے مطالبات بھی پیش کئے جاتے ہیں۔

1) اکابر ومشائخ سے مشاورت کے بعد کل 4/ ستمبر 2020ء بروز جمعہ “یوم عظمت صحابہ” کے طور پہ منانے کا اعلان کیا جاتا ہے۔کراچی سمیت بھر کی مساجد میں اصحاب رسول رضوان اللہ تعالیٰ علیہم اجمعین کے فضائل ومناقب پہ روشنی ڈالی جائے گی۔
2) کراچی میں دس محرم کے جلوس میں جس شخص نے توھین صحابہ کی جسارت کی ہے اس کے خلاف ایف آئی آر میں دھشت گردی کی دفعات کے ساتھ گرفتار کر کے عبرتناک سزا دی جائے۔
3) یہ نمائندہ علماء کنونشن مطالبہ کرتا ہے کہ متعلقہ جلوس کے پرمنٹ ھولڈر کے خلاف بھی کاروائی کرتے ہوئے وہ پرمنٹ منسوخ کیا جائے۔
4) ایک منصوبہ بندی کے ساتھ ملک میں بڑھتی ھوئی فرقہ واریت پہ علماء کنونشن میں تشویش کا اظہار کرتے ہوئے اس کی روک تھام کیلئے فوری اقدامات کا مطالبہ کیا جاتا ہے۔
5) سوشل میڈیا پہ اشتعال انگیز اور منافرت پہ مبنی مواد کو پھیلانے والے عناصر کے خلاف فوری کاروائی کا مطالبہ بھی کیا جاتا ہے۔
6) تحفظ بنیاد اسلام بل کو اس کی اصل شکل میں ملک بھر کی صوبائی اسمبلیوں اور قومی اسمبلی سے منظور کیا جائے۔
7) آج کا عظیم الشان علماء کنونشن مطالبہ کرتا ہے کہ چند روز قبل اسلام آباد میں حضرت ابوبکر صدیق رضی اللہ عنہ کی شان میں توھین آمیز تقریر کرنے والے آصف رضا علوی کو بھی فوری گرفتار کیا جائے۔اور اگر وہ بیرون ملک فرار ھوا ہو تو تحویل مجرمان کے قانون کے تحت متعلقہ ملک سے پاکستان لاکر قرار واقعی سزا دی جائے۔
8) یہ اجتماع مطالبہ کرتا ہے کہ ملک میں مقدس شخصیات کے خلاف سوچیں سمجھی سازش کے تحت فرقہ وارانہ کشیدگی کے ذریعہ ملک میں امن وامان اور مذھبی تعصبات کو پروان چڑھانے والے عناصر کے خلاف بھی فوری کاروائی کرتے ہوئے ایسے اجتماعات کو عبادت گاھوں تک محدود کیا جائے۔
9) بارہ رکنی کراچی علماء کمیٹی کے اجلاسوں اور کنونشن میں طے کیا گیا کہ بروز جمعہ 11/ستمبر 2020ء دوپہر تین بجے گرومندر سے تبت سینٹر تک فقید المثال پرامن “عظمت صحابہ ریلی” نکالی جائے گی۔جس میں مختلف مذھبی جماعتوں و تنظیموں کے افراد شریک ھونگے۔
10) یہ کنونشن ملکی سلامتی کے اداروں سے مطالبہ کرتا ہے کہ مذھبی تعصب کے ذریعہ ملک میں عدم استحکام ،انتشار اور انارکی میں مبتلاء کرتے ہوئے فرقہ واریت کو پھیلانے کیلئے بعض بیرونی عناصر کے ملوث ھونے کی خدشات کی چھان بین کی جائے۔
11) معروف علمی و دینی رہنماؤں کو دی جانے والی سرکاری سیکورٹی پہ مامور اھلکاروں کو دوبارہ متعین کیا جائے۔
12) دیگر مذھبی جماعتوں و تنظیموں کی جانب سے موجودہ صورتحال میں مختلف اجتماعات کا انعقاد خوش آئند ہے ,کراچی علماء کمیٹی اس کا خیر مقدم کرتے ہوئے ان اجتماعات میں بھی عوام سے بھرپور شرکت کی اپیل کی جاتی ہے۔

علماء کرام نے اپنے اجلاس اور اس کے بعد عظیم الشان کنونشن میں طے کیا ہے کہ اگر ھمارے مطالبات کو تسلیم نہ کیا گیا تو عظمت صحابہ ریلی کے بعد اگلے لائحہ عمل کا اعلان بھی کیا جائے گا۔

علماء کنونشن میں بارہ رکنی کمیٹی کے سربراہ مولانا ڈاکٹر محمد عادل خان واراکین قاری محمد عثمان،مولانا اورنگزیب فاروقی، مولانا طلحہ رحمانی،مولانا اعجاز مصطفے،مولانا نعمان نعیم،مولانا تاج محمد حنفی،،قاضی احسان احمد،مولانا اقبال اللہ،قاری اللہ داد،مولانا محمد طیب،قاری محمد اقبال سمیت مولانا راحت علی ھاشمی،،مولانا ڈاکٹر منظور احمد مینگل،مولانا رب نواز حنفی،قاضی منیب الرحمن،مولانا حماد اللہ شاہ،مفتی رفیع اللہ،مولانا مزمل صدیقی،مولانا فضل سبحان،مفتی طارق مسعود،مفتی زبیر حق نواز،مولانا حماد اللہ مدنی،حافظ احمد علی،مولانا احمد یار خان،مولانا ادریس ربانی،مفتی فیض الحق،مولانا رفیع اللہ،مولانا محمد اکبر،،سمیت دیگر درجنوں علماء ومشائخ نے خطاب وشرکت کی۔جبکہ ھزار سے آئمہ وخطباء نے بھی شرکت کی۔