Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
گندم قیمتیں کنٹرول کیوں نہیں ہورہیں ؟ مراد علی شاہ اجلاس میں بھڑک اٹھے | زرائع نیوز

گندم قیمتیں کنٹرول کیوں نہیں ہورہیں ؟ مراد علی شاہ اجلاس میں بھڑک اٹھے

کراچی : وزیر اعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ نے جنیوا میں ڈونرز کانفرنس میں شرکت کے بعد واپس آتے ہی گندم کی موجودہ صورتحال اورآٹے کی قیمتوں پر قابو پانے کے حوالے سے وزیراعلیٰ ہائوس میں اجلاس منعقد کیا اور محکمہ خوراک کو ہدایت کی کہ اوپن مارکیٹ میں آٹافی کلو 95 روپے جبکہ سبسڈی آٹے کی قیمت 65 روپے یقینی بنائی جائے۔

اجلاس میں وزیر خوراک مکیش چاولہ، چیف سیکرٹری سہیل راجپوت، وزیراعلیٰ سندھ کے پرنسپل سیکریٹری فیاض جتوئی، سیکرٹری خوراک خرم شہزاد اور ڈائریکٹر فوڈ امتیاز شیخ نے شرکت کی۔وزیر خوراک مکیش کمار چاولہ نے وزیراعلیٰ سندھ کو بتایا کہ محکمہ خوراک یومیہ 8000 ٹن سے 12000 ٹن گندم ریلیز کر رہا ہے اور فروری کے آخر تک صوبے کی ضرورت کے مطابق گندم کا اسٹاک موجود ہے۔

وزیراعلیٰ سندھ نے برہمی کا اظہارکرتے ہوئے کہا کہ اگر محکمہ خوراک وافر مقدار میں گندم ریلیز کر رہی ہے تو قیمت کنٹرول میں کیوں نہیں آرہی؟مراد علی شاہ نے محکمہ خوراک کو واضح طور پر ہدایت دی کہ آٹے کی قیمتوں کو کنٹرول کیا جائے، اسے اوپن مارکیٹ میں 95 روپے فی کلو مقرر کیا جائے اور 65 روپے فی کلو کے حساب سے سبسڈی آٹا فراہم کیاجائے۔ صوبے میں موجود گندم کے ذخیرے کی تفصیلات بتاتے ہوئے وزیر خوراک نے کہا کہ 618,569 ٹن سے زائد گندم دستیاب ہے۔

انہوں نے مزید کہا کہ یہ ذخیرہ فروری کے آخر تک صوبے کی ضرورت کو پورا کرنے کے لیے کافی ہے اور مارچ کے پہلے ہفتے سے نئی فصلیں مارکیٹ میں آنا شروع ہو جائیں گی اور قیمتیں خود بخود کم ہو جائیں گی۔

وزیراعلیٰ سندھ نے چیف سیکریٹری کو ہدایت کی کہ وہ نہ صرف آٹا بلکہ دیگر اشیائے خوردونوش ؛سبزیوں، پھلوں، چکن،بیف، مٹن، انڈے اور دالوں کی قیمتوں کو کنٹرول کرنے کے حوالے سے ضلعی انتظامیہ کو مزید متحرک کریں۔