کراچی: صوبائی وزیر بلدیات سید ناصر شاہ نے عمران خان کے جمہوریت میں اخلاقیات کے درس پر انکے بیان پر رد عمل میں کہاہے کہ عمران خان ہمیں جمہوریت پر اخلاقیات نہ سکھائیں بلکہ خود اپنے گریبان میں جھانکیں تو انھیں معلوم ہوگا کہ دوسروں کے جمہوری حق پر ڈاکا ڈالتے وقت انکی اخلاقیات کہاں تھی اور جب دوسروں کے کاندھوں پر بیٹھ کر اقتدار کے چار سال مزے لوٹے تب اخلاقیات کہاں تھی؟ توشہ خانہ سے متعلق ناصر شاہ نے جواب دیتے ہوئے کہا کہ اگر زرداری صاحب نے توشہ خانہ سے گاڑی لی ہے تو انہوں نے ڈکلیئر بھی کی اس کے برعکس عمران نے تو توشہ خانہ تحائف کو ہول سیل کی دکان سمجھ کر تھوک کے بھاؤ ریزکی میں بیچ کر پیسہ بنایا۔
ناصر شاہ نے کہا کہ عمران تو قومی اسمبلی پر اسکائی لیب کی طرح گر رہے تھے لیکن بعد میں پنجاب اور کے پی کے کی اسیمبلیوں پر گر گئے۔ انھوں نے کہاکہ کراچی کی عوام نے نے پی ٹی آئی کو بلدیاتی انتخابات میں مسترد کیا اب وہ ہر جگہ مسترد ہونگے۔
صوبائی وزیر نے کہا کہ عمران خان نے 2018 میں کھوسو صاحب کا نام دیکر واپس لیا تھا، لیکن سکھیرا صاحب ابھی گورنمینٹ سروس میں ہیں تو وہ کیسے نگران وزیراعلی بن سکتے ہیں؟ جبکہ نگران وزیراعلیٰ کیلے نامزد تیسرا نام عمران خان کی جانب سے لقب سے نوازے پنجاب ڈاکو کا خاص تھا اس لئے انہوں نے پچھلی مرتبہ واپس لیا تھا۔
ناصر شاہ نے کہا کہ محسن نقوی ایک نیوٹرل اور میڈیا کا معتبر نام ہے اور یہ سب کو ساتھ لیکر چلیں گے۔
