Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
پی ٹی آئی کے مزید 43 ارکان اسمبلی کے استعفے منظور | زرائع نیوز

پی ٹی آئی کے مزید 43 ارکان اسمبلی کے استعفے منظور

اسلام آباد : پی ٹی آئی کے مزید 43 اراکین قومی اسمبلی کے استعفے منظور کر لیے گئے۔اسپیکر قومی اسمبلی راجہ پرویز اشرف نے تحریک کے مزید 43 اراکین کے استعفے منظور کیے،اسپیکر نے استعفے مںظور کر کے الیکشن کمیشن کو بھجوا دئیے،اسپیکر قومی اسمبلی نے گزشتہ دنوں دو مراحل میں پی ٹی آئی کے 70 استعفے منظور کیے تھے جبکہ تحریک انصاف کے اب تک 124 ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور کر لیے گئے ہیں۔

جبکہ گزشتہ روز پی ٹی آئی کے 44 ارکان اسمبلی نے استعفے واپس لینے کا فیصلہ کیا اور پی ٹی آئی ارکان اسی سلسلے میں پارلیمنٹ پہنچے تو پارلیمنٹ ہاؤس کا گیٹ بند کر دیا گیا۔

تحریک انصاف کے رہنما فواد چوہدری کا کہنا ہے کہ اسمبلی تو اس وقت ربڑ اسٹیمپ بن کر رہ گئی ہے،شہباز شریف کو اعتماد کا ووٹ نہ لینا پڑے اس لیے راجہ ریاض کو بچا رہے ہیں۔172 لوگوں کی اکثریت شہباز شریف کے پاس نہیں رہی،یہ لوٹوں کے سہارے حکومت کرنا چاہتے ہیں۔

فواد چوہدری نے پی ٹی آئی کے مزید 43 ارکان قومی اسمبلی کے استعفے منظور کیے جانے پر ردِعمل میں کہا ہے ہم پہلے کہہ رہے تھے کہ استعفے منظور کیے جائیں،ہم نے الیکشن کمیشن کو لکھ کردیا کہ استعفوں کو ڈی نوٹیفائی نہ کیا جائے۔
۔40 فیصد اسمبلی خالی ہے اور لوگوں کااعتبار ختم ہو گیا ہے۔

رہنما تحریک انصاف نے دعویٰ کرتے ہوئے کہا کہ 172 لوگوں کی اکثریت شہبازشریف کے پاس نہیں رہی،حکمرانوں نے پوری پارلیمنٹ کو 3 دن کے لیے بند کردیا , ملک کے بحران کا حل الیکشن کے بغیر ممکن نہیں،الیکشن کمیشن کٹھ پتلی ہے اور یہ کچھ نہیں کر سکتا،اسمبلی اس وقت صرف ربڑ اسٹیمپ بن کر رہ گئی،ہماری جماعت پرامن احتجاج پر یقین رکھتی ہے،حکمرانوں نے شروع سے تماشا لگایا ہوا تھا۔

ان کا کہنا تھا کہ اس وقت یہ الیکشن کرائیں گے تو کم ازکم 15 سے 18 ارب روپے درکارہیں،شہبازشریف کو اعتماد کا ووٹ نہ لینا پڑے اس لیے راجہ ریاض کو بچایا جارہا ہے۔