اسلام آباد : وزیراعظم نے کہا کہ أئی ایم ایف سے معاہدہ اسی ماہ ہو جائے گا , اسٹیٹ اون انٹرپرائز کا کیا حشر بنا، اسٹیل ملز اور دیگر اداروں کو دیکھ لیں، خواجہ سعد رفیق نے بڑی محنت سے ریلوے کو بہتر کرنے کی کوشش کی، ان کےبعد ریلوےکا کیاحشر ہوا، دیکھ لیں، ہم ایک ایک پائی بچانے کی کوشش کررہےہیں۔انہوں نے کہا کہ امپورٹ میں کس کوفوقیت ہونی چاہیے ہم نے اس کی فہرست بنائی ہے، کھانے پینے کی اشیا اورادویات سمیت دیگرچیزیں فہرست میں شامل ہیں۔
شہباز شریف نے کہا کہ فارن ایکسچینج ریزرو کو دیکھ کر امپورٹ کی فوقیت کے لحاظ سے لسٹ تیار کی ہے۔انہوں نے کہا کہ پاکستان میں کاربن کی اخراج کی شرح ایک فیصد سے بھی کم ہے، ہم ان مشکلات سے نکلیں گے۔
انہوں نے مزید کہا کہ کاش ایم ایل ون بے بنیاد الزام تراشی کا شکار نہ ہوتا، چینی کمپنیون پر کرپشن کے بے بنیاد الزامات لگائے گئے، چار سالوں میں چین کے ساتھ تعلقات کو ٹھیس پہنچی۔
