اسٹاک ہوم: دارلحکومت اسٹاک ہوم میں ترک سفارتخانے کے سامنے قرآن پاک نذر آتش کرنے کے معاملے نے جہاں مسلم دنیا کو غم وغصے میں مبتلا کیا وہیں سویڈن میں مقیم مسلمانوں کو ذہنی اذیت سے دوچار کیا ہے۔
ردعمل میں 34سالہ مصری نژاد شخص نے اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے توریت جلانے کا اعلان کرتے ہوئے کہا کہ میں ایک نئی بحث کا آغاز کرنا چاہتا ہوں سویڈن کے مقامی جریدے کو انٹریودیتے ہوئے مذکورہ شخص کا کہنا تھا کہ وہ اسرائیلی سفارتخانے کے سامنے یہودیوں کی مقدس کتاب کو نذر آتش کرنے کا ارادہ رکھتا تھا مگر اب وہ ناصرف توریت بلکہ عیسائیوں کی مقدس کتاب بائبل کو اسٹاک ہوم کے معروف چوراہے سرجل اسکوائر پر نذر آتش کرے گا. اس حوالے سے اس شخص نے پولیس سے اجازت نامہ طلب کرنے کی درخواست دائر کردی ہے۔
اسٹاک ہوم کے اسلامک سینٹر کے ترجمان کا مذکورہ شخص کے ممکنہ اقدام کے حوالے سے کہنا تھا کہ فرد واحد ہم مسلمانوں کی ترجمانی نہیں کرتااور کسی بھی مذہبی کتاب کی بے حرمتی دین اسلام کی تعلیمات کے خلاف ہے، مصری شخص کا بھی یہ کہنا ہے کہ یہ میرا نجی معاملہ ہے میں یہ دیکھنا چاہتا ہوں کہ جب یہودیوں اور عیسائیوں کی مذہبی کتاب نذر آتش ہوگی تو اسے آزادی اظہار رائے کا نام دیا جائے گا یا کوئی قانون مسلط کیا جائے گا.
