کراچی : روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر بڑھنے کا سلسلہ جاری ہے،انٹر بینک میں ڈالر 3 روپے 46 پیسے مہنگا ہو گیا۔ انٹربینک مارکیٹ میں ڈالر ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پر پہنچ گیا،انٹر بینک میں ڈالر 3 روپے 46 پیسے مہنگا ہونے کے بعد 274 روپے 82 پیسے میں فروخت ہو رہا ہے۔
فاریکس ڈیلرز کے مطابق بینک درآمد کنندگان کو ڈالر 277 روپے میں فروخت کر رہے ہیں،اوپن مارکیٹ میں ڈالر 275 سے 279 روپے میں فروخت کیا جا رہا ہے۔
یاد رہے کہ معاشی آوٹ لک رپورٹ کے مطابق ڈالر 84 روپے مہنگا ہوا،ایکسپورٹ اور ترسیلات زر 7 سے 11 فیصد گر گئیں،زرمبادلہ ذخائر 13 ارب ڈالرز کم ہو کر 22 ارب ڈالرز کی سطح سے 9 ارب ڈالرز کی سطح پر آگئے۔
رپورٹ کے مطابق رواں سالانہ بنیادوں پر ڈالر کی قدر 178 ارب روپے سے بڑھ کر 262 ارب روپے رہی، وفاقی حکومت کی نان ٹیکس آمدنی 822 ارب روپے، زرعی قرضے 842 ارب روپے رہے۔
مالی سال کے پہلے 5 ماہ بجٹ خسارہ 1 ہزار 169 ارب روپے تک پہنچ گیا، ترقیاتی اخراجات 139 ارب روپے رہے جبکہ ٹیکس آمدنی 3429 ارب روپے رہی۔ ترسیلات زر میں 11 فیصد، برآمدات میں 7 فیصد، درآمدات میں 18 فیصد کمی ہوئی، کرنٹ اکاونٹ خسارہ 3 ارب 70 کروڑ ڈالر جبکہ غیرملکی سرمایہ کاری میں بھی کمی ہوئی۔ علاوہ ازیں گزشتہ ایک سال میں غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر 22 ارب ڈالر سے کم ہوکر پونے 9 ارب ڈالر رہ گئے ہیں۔
جبکہ مہنگائی کے بھی تازہ ترین اعداد و شمار سامنے آئے ہیں، جس کے مطابق ملک میں مہنگائی کی شرح 47 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی۔ دارہ شماریات نے مہنگائی کے ماہانہ اعداد و شمار جاری کر دیے ہیں جن کے مطابق مہنگائی کی شرح 47 سال کی بلند ترین سطح پر پہنچ گئی ہے، اس سے قبل مئی 1975ء میں مہنگائی کی شرح 27 اعشاریہ 8 فیصد تھی۔
