لاہور: گورنر خیبرپختونخوا حاجی غلام علی نے پنجاب میں اپنے ہم منصب بلیغ الرحمن اور نگران وزیراعلیٰ محسن نقوی سے ملاقات کی اور اس بات پر اتفاق کیا کہ موجوہ حالات میں ملک علیحدہ علیحدہ انتخابات کا متحمل نہیں ہو سکتا۔
رپورٹ کے مطابق اس ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ قومی اور صوبائی اسمبلیوں کے انتخابات اگست میں وفاقی حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد رواں برس کے آخر میں کروانے چاہئیں۔
وفاقی حکومت بھی اعلان کر چکی کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات 90 روز بعد کرانے کے لیے نئی قانون سازی کی ضرورت نہیں۔حکومت کا 90 روز میں دونوں صوبوں کے اندر انتخابات نہ کرانے کا ارادہ پی ٹی آئی کی قیادت کی مایوسی میں اضافہ کر رہا ہے جس نے اپنی ’ جیل بھرو تحریک ‘ کو پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات کے اعلان سے مشروط کردیا۔
گورنر پنجاب نے میڈیا سے گفتگو میں کہا کہ پاکستان 2 علیحدہ علیحدہ انتخابات کا متحمل نہیں ہو سکتا کیونکہ اس پر اربوں روپے خرچ ہوں گے۔گورنر پنجاب کے بیان سے واضح ہے کہ پنجاب اور خیبرپختونخوا میں انتخابات وفاقی حکومت کی مدت پوری ہونے کے بعد کرائے جائیں گے۔انہوں نے کہا کہ رواں سال کے آخر میں عام انتخابات ہونے ہی ہیں لہذا ملک کی معاشی پریشانیوں کو مدِنظر رکھتے ہوئے دو صوبوں میں قبل از وقت انتخابات کا مطالبہ بےجا لگتا ہے۔
