لاہور،کراچی ،اسلام آباد: سابق وزیر اعظم عمران خان نے کہا کہ لگتا ہے ابھی باجوہ کی پالیسی چل رہی ہے ،نواز شریف چاہتے ہیں میں نااہل ہوں، یوں لگ رہا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہو گی، باجوہ کو ایکسٹینشن دیناغلطی نہیں بلنڈر تھا۔
غیر ملکی ذرائع ابلاغ کے صحافیوں سے ملاقات میں گفتگو کرتے ہوئے چیئرمین تحریک انصاف عمران خان نے کہا کہ اسٹیبلشمنٹ ایک آدمی کا نام نہیں ، نیا آرمی چیف اپنی پالیسی لاتا ہے، یوں لگتا ہے ابھی بھی باجوہ کی پالیسی چل رہی ہے۔ ابھی تک اسٹیبلشمنٹ کی طرف سے مثبت اشارہ نہیں ملا، کمان کی تبدیلی کو ابھی صرف دو ماہ ہوئے ہیں لہٰذا میں آرمی چیف کو بینیفٹ آف ڈاؤٹ دیتا ہوں، اس وقت مائنس عمران خان پالیسی چل رہی ہے، نواز شریف کو واپس لانے کیلئے مجھے نااہل کروانے کا منصوبہ بنایا ہے،، ٹیریان کیس میں لارجر بنچ کا بننا میرے لئے اچھا ہے۔
عمران خان نے کہا کہ جیل بھرو تحریک ایک پرامن احتجاج ہے، جیل بھرو تحریک میں خود گرفتاری دوں گا، مکمل صحتیاب ہونے کیلئے دو ہفتے لگیں گے پھر جیل بھرو تحریک کو لیڈ کروں گا، ابھی تک کسی سے کوئی رابطہ نہیں ہے اگر کوئی بات چیت کیلئے آیا تو بتاؤں گا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا بلاول امریکہ میں ناشتہ تو کر سکتا ہے مگر افغانستان میں امن کی خاطر نہیں جا رہا، موجودہ طالبان حکومت پاکستان مخالف نہیں ہے، ہم دہشت گردی کے متحمل نہیں ہو سکتے، ساری دنیا میں دہشتگردی ہوتی ہے لیکن اے پی سی کا نام نہیں سنا، اے پی سی میں شرکت کیلئے سوچ بچار کر رہے ہیں، کشمیر کا اصل سٹیٹس بحال ہونے تک بھارت سے بات چیت نہیں ہونی چاہیئے۔حکومت توشہ خانہ میں پھنس گئی ہے، عدالت نے توشہ خانہ کی تفصیل مانگی جو نہیں ملی۔انہوں نے مزید کہا کہ یوں لگ رہا ہے کہ انتخابات میں دھاندلی ہو گی، آئینی طور پر الیکشن 90 روز میں ہونے ہیں اور اس پر عملدرآمد متعلقہ اداروں نے کروانا ہے، یہ میرے ہاتھ پیر باندھ کر الیکشن میں جانا چاہتے ہیں، اکیلا عمران خان کامیاب ہو گا۔
چیئرمین پی ٹی آئی نے کہا مریم پتہ نہیں کونسی سرجری کرانے گئی جو صرف دو ملکوں میں ہی ہوتی ہے، خود باہر علاج کراتے اور یہاں ہیلتھ کارڈ بند کر رہے ہیں، کیا کوئی وجہ بتائے گا کہ 100، 100 روپے ڈالر، پٹرول اور دوسری چیزیں کیوں مہنگی ہو رہی ہیں، پاکستان کے پاس آئی ایم ایف سے ڈیل کے سوا کوئی چارہ نہیں۔ ادھر عمران خان نے جیل بھرو تحریک کے اقدام بارے آئینی و قانونی ماہرین کی رائے طلب کر لی ۔پارٹی ذرائع نے بتایا ہے کہ آئینی ماہرین کی رائے کے ذریعے جیل بھرو تحریک کے حوالے سے فیصلہ کیا جائے گا۔
