کراچی: ایم کیو ایم پاکستان کو تحریک انصاف نے بجٹ پاس کروانے کے لیے ایک اور عہدہ دینے کی منظوری دے دی،
حکومت اور اپوزیشن میں جاری سیاسی رسہ کشی کے دوران وفاقی بجٹ پر زیادہ سے زیادہ حمایت حاصل کرنے کے لیے وزیر اعظم عمران خان نے متحدہ قومی موومنٹ (ایم کیو ایم) کو ایک اور وزارت دینے کا فیصلہ کرلیا۔
تفصیلات کے مطابق گورنر سندھ اور ایم کیو ایم کے رکن قومی اسمبلی اینڈ وزیرقانون بیرسٹر فروغ نسیم سمیت ایم کیو ایم کے دیگر اراکین نے وزیراعظم سے اہم ملاقات کی۔
وزیراعظم نے ایم کیو ایم کو ایک اور وزارت، مشیر یا معاونِ خصوصی کا عہدہ دینے کی رضامندی ظاہر کی ساتھ ہی عمران خان نے کراچی اور حیدرآباد کے ترقیاتی پیکجز کا بھی اعلان کی انہوں نے حیدرآباد اور کراچی کے میئرز کو براہ راست فنڈز جاری کرنے کا عندیہ دیا۔
مزید پڑھیں: زرداری کے پروڈکشن آرڈر کا معاملہ، ایم کیو ایم نے پی پی کی حمایت کردی
بجٹ میں حمایت کی یقین دہانی کے بعد عمران خان نے فیصلوں پر عملدرآمد کے لیے وزیرقانون فروغ نسیم اور گورنر سندھ پر مشتمل ایک کمیٹی بھی تشکیل دی جو دو طرفہ معاہدوں پر عملدرآمد کروائے گی۔
خیال رہے کہ اس وقت متحدہ قومی موومنٹ کے پاس قانون اور انفارمیشن ٹیکنالوجی کی 2 وفاقی وزارتیں ہیں، ایم کیو ایم اور پی ٹی آئی کا اتحاد باقاعدہ تحریری معاہدے کی صورت میں ہوا تھا جن میں سے صرف ایک وزارتیں ملنے کے معاہدے کو عملی جمع پہنایا گیا۔
ایم کیو ایم پاکستان کے ایک بااثر رہنما سے ملنے والی اطلاع کے مطابق وزیراعظم کے معاونِ خصوصی یا مشیر کے عہدے پر فیصل سبزواری سب سے مضبوط امیدوار ہیں، ایم کیو ایم اس عہدے پر بھی اکتفا کرنے کے لیے تیار ہے۔
دوسری جانب اپوزیشن کا دعویٰ ہے کہ حکومت سادہ اکثریت کے ساتھ بجٹ پاس کروانے کے قابل نہیں ہے کیونکہ ان کی اتحادی بلوچستان نیشنل پارٹی (بی این پی مینگل) بجٹ کے حق میں ووٹ نہیں دے گی۔
یہ بھی پڑھیں: بجٹ سیشن 15 اپوزیشن اراکین گرفتار ہوں گے، بجٹ منظور ہوجائے گا
بجٹ منظوری، کیا تحریک انصاف حمایت کرنے والے امیدوار کو 5 ارب روپے دے گی؟ انتہائی اہم بات
دوسری جانب سماجی رابطے کی ویب سائٹ پر فیصل وہاب نامی ایم کیو ایم پاکستان حیدرآباد کے کارکن نے اپنے تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے اہم سوال کھڑا کردیا۔
https://twitter.com/FarazWahab1/status/1141266513242054656
اس کے جواب میں ایم کیو ایم کی بلدیاتی رکن اور سوشل میڈیا کی عہدیدار ثبین غوری نے کہا کہ
وزارت پارٹی کو ملے گی کراچی یا حیدرآباد کو نہیں
— SabheenGhoury (@sabheenghoury) June 19, 2019
انجینئر جاوید امام نے بھی اپنے تحفظات کا اظہار کیا
حیدرآباد کے نمائندےنا اہل ہیں ؟
— Engr Jawaidimam (@Jawaid_Imam) June 19, 2019
Bhai ab yh tafreeq khudara na paida kero, khalid maqbool ka taluuq hyd sy hi hy kunwar naveed bhi hyd sy hi hy
— اسد الرحمن (@AsadRehmen) June 19, 2019
ایک اور صارف نے لکھا کہ امین الحق نے آصف زرداری کے پروڈکشن آرڈر کی اس لیے حمایت کی کہ انہیں بلیک میلنگ سے وزارت مل سکے۔
آج اسی لئے امین الحق نے اسمبلی میں آصف زرداری کے پروڈیکشن آڈر کی حمایت کی تھی تاکہ بلیک میل کر کے اپنی وزارت لی جائے باقی مہاجر قوم جائے بھاڑ میں
مفاد پرست ٹولہ @NoorulArfeenSid @AkbarAH @AnaKhan26
— PakistanPatriotic 🇵🇰 (@PakistanPatrioc) June 19, 2019

