کراچی کے دو علاقوں گلشن اقبال اور ملیر میں 8 سالہ اور تین ماہ کا بچہ ڈاکٹر کے غلط انجکشن لگنے کے باعث زندگی کی بازی ہار گئے، شہر میں ڈاکٹر کی مبینہ غلفت سے مرنے والوں کی تعداد ۱۰ روز میں چھ تک پہنچ گئی۔
کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں دو روز قبل رکشہ ڈرائیور اپنی 8 سالہ بیٹی صبا نور کو سانس میں تکلیف کے بعد نجی کلینک لے کر پہنچا جہاں ڈاکٹر عدنان نے اُسے غلط انجیکشن لگایا اور بچی کی موت واقع ہوگئی۔
ڈاکٹر عدنان جائے وقوعہ سے فرار ہوگیا تھا جس کے بعد پولیس نے اُسے حراست میں لیا اور تفتیش کی، دوران تفتیش عدنان نے انکشاف کیا کہ اُس نے 20 ہزار روپے کے عوض ایم بی بی ایس کی جعلی ڈگری خریدی۔
گلشن اقبال تھانے میں اتائی ڈاکٹر عدنان کے خلاف قتلِ خطا اور قتل بالسبسب کی دفعات کے تحت مقدمہ درج کیا گیا جبکہ پوسٹ مارٹم رپورٹ میں زائد کیمیکل کی وجہ موت کو قرار دیا گیا۔
دوسری جانب ملیر کے نجی اسپتال میں ایک ہفتے قبل جانے والا بچہ بھی زندگی کی بازی ہار گیا، یرقان کے علاج میں جانے والے بچے کو ڈاکٹرز نے ہائی ڈوز انجکشن لگائے جس کے باعث اُس کی آنکھ ضائع ہوئی اور کل وہ جہانِ فانی سے کوچ کرگیا۔
