Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کراچی بلدیاتی الیکشن:متنازعہ پولنگ اسٹیشنز کے فارم 11طلب | زرائع نیوز

کراچی بلدیاتی الیکشن:متنازعہ پولنگ اسٹیشنز کے فارم 11طلب

اسلام آباد: الیکشن کمیشن نےکراچی میں بلدیاتی انتخابات کے دوران بےضابطگیوں سے متعلق جماعت اسلامی کی درخواست پر سماعت کرتے ہوئےمتنازعہ پولنگ اسٹیشنز کے فارم 11فراہم کرنے کی ہدایت کی ہے۔ممبر سندھ کراچی نثار احمد درانی کی سربراہی میں 4رکنی الیکشن کمیشن نے کیس کی سماعت کی۔

جماعت اسلامی کے وکیل نے الیکشن کمیشن کو بتایا کہ پولنگ سٹیشن نمبر 9 کا رزلٹ پریزائیڈنگ افسر نے بھیجا تو دوسرا صفحہ خالی تھا۔ان کا کہنا تھا کہ چار امیدواروں کے نتائج صفحہ نمبر دو پر آنے تھے لیکن وہ صفحہ ہی خالی تھا اور ریٹرننگ افسر نے اس غلطی کا اعتراف کیا۔جماعت اسلامی کے وکیل نے الزام عائد کیا کہ پریذائڈنگ افسر نے ریٹررنگ افسرکو مکمل نتیجہ ہی نہیں بھیجا ۔

پاکستان پیپلز پارٹی کے وکیل نے ریٹرننگ افسر کی طرف سے پیپلز پارٹی کے امیدواروں کے حق میں نتائج تبدیل کرنے کے جماعت اسلامی کے وکیل کے دلائل مسترد کرتے ہوئے موقف اپنایا کہ ان کے پاس موجود فارم 11 کے مطابق جماعت اسلامی کے امیدوار نے صفر ووٹ لیے ہیں۔ریٹرننگ افسر نے پیش ہوکر تصدیق کی کہ ان کے پاس جو فارم ہے اس پر جماعت اسلامی کے زیرو ووٹ ہیں ۔ممبر سندھ نے کہا کہ یہ فارم تو بالکل خالی ہیں،ہمیں نتائج کے اوریجنل کاپی دے دیں اور پریزائیڈنگ افسر کو بھی بلایا جائے۔

پیپلز پارٹی کے وکیل نے کہا کہ الیکشن کمیشن کو اتنی چھوٹی چھوٹی چیزوں میں نہیں پڑنا چاہیے جبکہ جماعت اسلامی کے وکیل نے موقف اپنایا کہ الیکشن کمیشن ان معاملات کو سن سکتا ہے۔ممبر کے پی کے نے پیپلز پارٹی کے وکیل سے مکالمہ کرتے ہوئے کہا کہ ہم آپ کی بات سمجھ چکے ہیں لیکن جماعت اسلامی کا کہنا ہے کہ 200 ووٹوں کو 214 لکھا گیا،ہم دیکھیں گے 200 سے 214 کیسے ہوگئے۔

الیکشن کمیشن نے کیس کی مزید سماعت 22 جنوری تک ملتوی کردی۔ الیکشن کمیشن کے باہر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے تحریک انصاف کے رہنما علی زیدی نے کہا کہ سندھ کے بلدیاتی انتخابات میں جو تماشہ ہوا سب نے دیکھ لیا۔پیپلزپارٹی نے پہلے بہانہ بنا کر بلدیاتی الیکشن ملتوی کیااور ایم کیو ایم کے احتجاج کے بعد پھر الیکشن کروایا گیا۔یہ پورا الیکشن آر اوز نےمینج کیا ہوا تھا،اگر ایسے ہی کرنا ہے تو پھر اتنا خرچ کر کے الیکشن کروانے کی کیا ضرورت ہے۔ علی زیدی نے کہا کہ ہم الیکشن کمیشن سے اُمید کرتے ہیں کہ یو سیز کے الیکشن میں انصاف کریگا۔

پیپلز پارٹی کے رہنما سعید غنی نے کہا کہ سندھ بلدیاتی انتخابات اب تک کے سب سے پر امن انتخابات تھے۔ الیکشن کمیشن نے یکطرفہ فیصلہ کرتے ہوئے انتخابات کے نتائج روکے۔جماعت اسلامی اور پی ٹی آئی کو مسئلہ ہے کہ لوگوں نے پیپلزپارٹی پر اعتماد کیا۔