کراچی: حکومت نے پورٹس پر پھنسے کنٹینرز کے چارجز معاف کرنے پر یوٹرن لے لیا۔
پاکستانی بندرگاہوں پر پھنسے کنٹینرز پر تاجروں کو پُرہجوم پریس کانفرنس میں پورٹ چارجز فوری معاف کرنے کی خوشخبری سنانے والے وفاقی وزیر نے آج اپنا مؤقف ہی تبدیل کرلیا۔ وفاقی وزیر بحری امور فیصل سبزواری کہتے ہیں معاملہ اقتصادی رابطہ کمیٹی کو منظوری کیلئے بھیج دیا ہے، شپنگ لائنز اور ٹرمینلز آپریٹرز ڈیٹینشن چارجز کی معافی کا فیصلہ خود کریں گے۔
وفاقی حکومت نے ڈالرز کی قیمت میں تیزی سے اضافے کے باعث پورٹ پر پھنسے مختلف اشیاء کے کنٹینرز پر پورٹ چارجز معاف کرنے کا اعلان کیا تھا۔ دوسری جانب اسٹیل اور سریے کی قیمت ملکی تاریخ کی بلند ترین سطح پرآ گئی، ایک ٹن سریا 2لاکھ80ہزار روپے سے بھی زیادہ مہنگا ہوگیا۔
اس حوالے سے ذرائع کا کہنا ہے کہ بلڈرز اور ڈیولپرز نے سریا نہ خریدنے کا اعلان کردیا ہے جس کے نتیجے میں تعمیراتی کام رک گئے۔
ذرائع کے مطابق ایچ آر سی، سی آر سی اور جی پی کی قیمتیں 3 لاکھ سے بھی تجاوز کرگئیں، صدر آئرن اسٹیل مرچنٹس ایسوسی ایشن حمادپوناوالا نے کہا ہے کہ ایل سیز فوری کھولی جائیں۔ انہوں نے کہا کہ اسٹیل اور سریے کی قیمتیں بڑھنے کی اصل وجہ ایل سیز کا نہ کھلنا اور ڈالرکی قدر میں اضافہ ہے۔
حماد پونا والا کا کہنا تھا کہ اسٹیل ملز کی بندش سے لوہے کی مقامی پیداوار نہ ہونے کے برابر ہے، اور لوہے کی امپورٹ نہ ہونے سے تعمیراتی انڈسٹری مکمل خسارے میں ہے۔
