کراچی : ضیاء محی الدین 20 جون 1931 کوفیصل آباد میں پیدا ہوئے ۔انہوں نے اداکاری، صدا کاری اور میزبانی میں اپنی صلاحیتوں کے جوہر دکھائے۔
وہ پروڈیوسر، ڈائریکٹر اور ٹی وی نشریاتی مقرر بھی رہے۔ وہ اپنے کیریئر کے دوران پاکستانی اور برطانوی سینما میں نمودار ہوتے رہے ہیں۔
ضیا محی الدین نے 91 برس کی عمر پائی ۔لارنس آف عربیا میں کام کرنے کا موقع ملا تو انھوں نے اس فلم میں بھی ایک یادگار کردار ادا کیا۔
بعد ازاں انھوں نے تھیٹر کے کئی ڈراموں اور ہالی وڈ کی کئی فلموں میں کردار ادا کیے۔
1973 میں ضیا محی الدین پاکستان آئے جہاں انھوں نے پاکستان ٹیلی وژن کے لیے ضیا محی الدین شو کے نام سے ایک اسٹیج پروگرام کی میزبانی کی۔ اس اسٹیج پروگرام نے مقبولیت کے نئے ریکارڈ قائم کیے۔
ضیا محی الدین نے ایک پاکستانی ’’مجرم کون‘‘ میں بھی مرکزی کردار ادا کیا لیکن وہ اس میدان میں کامیاب نہ ہوسکے ۔ پاکستان پیپلز پارٹی کی حکومت کے دوران انہیں پی آئی ائے آرٹس اکیڈمی کا ڈائرکٹر مقرر کیا گیا ۔
اسی دوران انہوں نے نامور رقاصہ ناہید صدیقی سے شادی کرلی۔
ضیا محی الدین نے پاکستان ٹیلی وژن سے جو پروگرام پیش کیے ان میں پائل، چچا چھکن، ضیا کے ساتھ اور جو جانے وہ جیتے کے نام سر فہرست ہیں ۔ وہ اپنی خوب صورت آواز میں اردو ادب کے فن پارے اپنی خوب صورت آواز میں پیش کرنے میں بھی اختصاص رکھتے ہیں ۔
2004ء میں انہیں کراچی میں نیشنل اکیڈمی آف پرفارمنگ آرٹس کا ڈائرکٹر مقرر کیا گیا جہاں وہ آج بھی خدمات انجام دے رہے ہیں ۔
ان کے والد خادم محی الدین تدریس کے شعبے سے وابستہ تھے اور انہیں پاکستان کی پہلی فلم تیری یاد کے مصنف اور مکالمہ نگارہونے کا اعزاز حاصل تھا۔
ضیا محی الدین نے 1949ء میں گورنمنٹ کالج لاہور سے گریجویشن کیا اور مزید تعلیم کے حصول کے لیے پہلے آتریلیا اور پھر انگلستان چلے گئے جہاں انہوں نے رائل اکیڈمی آف تھیٹر آرٹس سے وابستگی اختیار کی اور صداکاری اور اداکاری کا سلسلہ شروع کیا۔
1956ء میں وہ پاکستان وپس لوٹے لیکن جلد ہی ایک اسکالر شپ پر انگلستان واپس چلے گئے جہاں انہوں نے ڈائرکشن کی تربیت حاصل کی ۔
1960 میں میں جب ای ایم فوسٹر کے مشہور ناول اے پیسج ٹو انڈیا کو اسٹیج پر پیش کیا گیا تو ضیا محی الدین نے اس میں ڈاکٹر عزیز کا کردار ادا کرکے شائقین کی توجہ حاصل کرلی۔
