اسلام آباد: وزیر اعظم شہبازشریف سمیت دیگر کے خلاف اشیانہ اقبال ریفرنس میں اہم پیش رفت نیب کے دو وعدہ معاف گواہوں نے اپنے بیان سے انحراف کرلیا ۔
وعدہ معاف گواہ نے دوران جرح انکشاف کیا کہ دباو اور جبر سے شہباز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے پر مجبور کیا گیا۔ڈی جی نیب شہزاد سلیم، ڈائریکٹر نیب محمد رفیع اور کیس آفیسر آفتاب احمد نے دباو ڈال کر جھوٹی شہادت لی. عدالت نے گزشتہ سماعت کا تحریری حکم جاری کردیا۔
احتساب عدالت کے جج ساجد اعوان نے گزشتہ سماعت کا 19 صفحات پر مشتمل تحریری حکم جاری کیا جس کے مطابق گواہ اسرار سعید اور عارف مجید بٹ نے اپنے بیان سے انحراف کرلیا. جرح کے دوران بتایا کہ ۔ایل ڈی اے کے چیف انجینئر اسرار سعید کا شہباز شریف کے وکیل امجد پرویز کی جرح میں اعتراف کیا کہ دباو اور جبر سے شہباز شریف کے خلاف وعدہ معاف گواہ بننے پر مجبور کیا گیا۔ڈی جی نیب شہزاد سلیم، ڈائریکٹر نیب محمد رفیع اور کیس آفیسر آفتاب احمد نے دباو ڈال کر جھوٹی شہادت لی۔
ڈی جی نیب شہزاد سلیم نے شہباز شریف پر ہراساں کرنے کا الزام لگانے کو کہا۔ اسرار سعید نے مزید کہا کہ گرفتاری کے دوران نیب میں واش روم میں سی سی ٹی وی کیمرہ لگائے گئے تھے۔ دوسرے ریمانڈ پر چئیرمین نیب جاوید اقبال اور ڈی جی شہزاد سلیم میرے سیل میں آئے۔دونوں نے کہا کہ ان پر بہت پریشر ہے دستخط کر دوں ورنہ میری مشکلات بڑھ جائیں گی. اسرار سعید. کا کہنا تھا کہ عدالت میں پہلا بیان بھی دباو اور جبر کی وجہ سے دیا۔ ڈی جی نیب شہزاد سلیم نے شہباز شریف پر ہراساں کرنے کا الزام لگانے کو کہا۔
ڈی جی نیب اس بیان کو شہباز شریف کی ضمانت کینسل کرانے کے لیے استعمال کرنا چاہتا تھامجھ پر بند انکوائریاں کھول کر نئے کیس بنانے کی دھمکیاں دی جاتیں۔ اسرار احمد کا مزید کہنا تھا کہ نہیں مجھے نیب ڈائریکٹر محمد رفیع نے وارنٹ گرفتاری دکھا کر پہلے سے تیار بیان پر دستخط کی آفر کی۔ انکار پر نیب نے گرفتار کر لیا اور دس دن کا جسمانی ریمانڈ لے لیا۔ مجھے واش روم جانے کے لیے آدھا گھنٹہ سے ایک گھنٹہ انتظار کرایا جاتا۔ واش روم میں سی سی ٹی وی کیمرہ لگائے گئے تھے۔
اسرار احمد کا امجد پرویز ایڈووکیٹ کے سوال پر جج کے روبرو جواب دیتے ہوئے کہا کہ سونے کے لیے چٹائی دی گئی۔ تمام رات بتیاں آن رکھی جاتیں۔ دوسرے ریمانڈ پر چئیرمین نیب جاوید اقبال اور ڈی جی شہزاد سلیم میرے سیل میں آئےدونوں نے کہا کہ ان پر بہت پریشر ہے دستخط کر دوں ورنہ میری مشکلات بڑھ جائیں گی۔ مجھ 90 دن کے ریمانڈ اور آمدن سے زائد اثاثوں کا کیس کھولنے سے ڈرایا گیامجھ پر دباو ڈال کر اس بیان پر دستخط کروائے گئے جو سچ نہیں تھا۔ مجھ سے سادہ کاغزات پر دستخط بھی لیے گئے۔ وعدہ معاف گواہ بننے کے بعد نیب نے میری لاہورہائیکورٹ سے ضمانت منظوری کی مخالفت نہ کی۔ شہباز شریف پر ہراساں کرنے کا الزام نہ لگانے پر نیب نے مجھے ڈرین پراجیکٹ کے الزامات پر دوبارہ گرفتار کر لیا۔ چار ماہ بعد ضمانت ہو گئی اور اس کیس کا کوئی ریفرنس فائل نہیں ہوا۔
اسرار سعید کا دوران جرح مزید کہنا تھا کہ آشیانہ ہاؤسنگ پراجیکٹ ایک شفاف منصوبہ تھا جسمیں کسی قانون کی خلاف ورزی نہیں کی گئی۔ شہباز شریف سمیت تمام ملزمان نے کسی جرم کا ارتکاب نہیں کیا عوام سے کوئی فراڈ یا دھوکہ دہی نہیں کی گئی تحریک انصاف کے دور میں احد چیمہ کے خلاف انکوائری کے دوران کسی خلاف وزری کا کوئی بیان نہیں دیا۔
نیب کے دوسرے وعدہ معاف گواہ عارف مجید بٹ نے بھی اپنے بیان سے انحراف کیا عدالت نے مزید گواہوں کو طلب کرتے ہویے کارروائی 18فروری تک ملتوی کردی۔
