Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
حکومتی نااہلی، کے فور منصوبہ تاخیر کا شکار، تخمینہ بڑھ گیا | زرائع نیوز

حکومتی نااہلی، کے فور منصوبہ تاخیر کا شکار، تخمینہ بڑھ گیا

 کراچی: حکومتی عدم توجہ کے باعث کراچی میں پانی کا اہم منصوبہ کے فور مز ید تاخیر کا شکار ہوگیا۔

کے فور سے کراچی کو یو میہ پہلے فیز میں 26کروڑ گیلن پا نی فر اہم کیاجا ئے گا اس اہم منصوبے کو 2018میں مکمل ہوناتھا لیکن واٹربورڈ کی اہم دستاویزات نے سارے منصوبے کی قلعی کھول دی۔

واٹر بورڈ حکام کے مطابق منصوبے کو مکمل ہو نے میں مزید 2 سے 3 سال لگ سکتے ہیں، منصوبے کی تخمینی لا گت میں بے پناہ اضافہ ہو گیا ہے۔

واٹربورڈ کی جانب سے یومیہ 26کروڑ گیلن کا منصوبہ کے فور2007 میں شروع کیا گیا جس کی ابتدائی رپورٹ تیار کی گئی جس میں منصوبہ 120 کنال اور پائپ لائن کے نظام پر مشتمل ہے جبکہ سندھ حکومت اور واٹربورڈ کی لا وپرائی اور غفلت کے باعث منصوبہ 7سال تاخیر کا شکار ہے۔

اس دوران وفاق نے بھی اس منصوبے کو مکمل کرنے کی پیشکش کی اور ایکنک سے منظوری کے بعد سندھ حکومت کوآدھی رقم کی ادائیگی کی یقین دہانی کر ادی 7سال کی تاخیر کے بعد سندھ حکومت نے ایک بار پھر کے فور کی 2014میں ایکنک سے منظوری کے بعد تعمیرشروع کی جس میں پی سی ون 6ارب روپے زمین کے حصول کے لیے سند ھ حکومت نے منظور کیے جولا ئی 2016میں واٹربورڈ نے کے فور فیزون کی تعمیر ایف ڈبیلواو کو دی۔

واٹر بورڈ کی ذمے داری تھی کہ زمین اور بجلی کا بندوبست کرتی لیکن دستاویزات کے مطابق 2015 سے 2018 تک واٹربورڈ نے 3سال ضایع کر دیے آج تک نہ زمین کا حصول ممکن ہو پا یا نہ ہی بجلی کا نظام بن سکا کے فور منصوبے میں80فیصد اراضی سرکاری ہے لیکن ملیر میں کچھ اراضی شہریوں کی ملکیت ہے۔

شہریوں کی زمین کے لیے سندھ حکومت نے 5ارب روپے مختص کیے تھے لیکن واٹر بورڈ اب تک یہ زمین حاصل نہیں کر سکا، حیران کن انکشاف یہ ہے کہ منصوبے کی مجموعی لمبائی 121کلو میٹر ہے لیکن صرف 35کلو میٹر پر کام ہوا ہے۔

بشکریہ ایکسپریس