Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6170
القاعدہ کے نئے سربراہ سیف العدل کون ہیں ؟‎ | زرائع نیوز

القاعدہ کے نئے سربراہ سیف العدل کون ہیں ؟‎

برسلز : سیف العدل کے القاعدہ کے نئے سربراہ بننے کے خبر کے سامنے آنے کے بعد سیف العد ل کی زندگی کے متعلق معلومات کی جانب بھی توجہ مبذول ہوجاتی ہے۔ سیف العدل 1960 میں قاہرہ کے شمال میں واقع منوفیہ گورنریٹ میں پیدا ہوئے تھے۔

انہوں نے مصری فوج میں شمولیت اختیار کی لیکن سابق صدر انور سادات کے قتل کے الزام میں “جہاد تنظیم” کو بحال کرنے کی کوشش کے الزام میں 1987 میں انہیں گرفتار کر لیا گیا۔

اقوام متحدہ کے ماہرین نے بتایا ہے کہ القاعدہ کی قیادت سیف العدیل کو منتقل کی جائے گی جو اسامہ بن لادن کو محفوظ بنانے کا ذمہ دار تھا اور اس نے 11 ستمبر 2001 کے حملوں میں ملوث کچھ افراد کو تربیت بھی دی تھی۔

ماہرین کی کمیٹی نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کو دی گئی رپورٹ میں کہا ہے کہ تنظیم نے ایمن الظواہری کی جانشینی سیف العدل کو منتقل کرنے اعلان نہیں کیا۔ ایمن الظواہری گزشتہ سال اگست کابل میں ایک امریکی ڈرون حملے میں مارے گئے تھے۔ اقوام متحدہ کے بیشتر رکن ممالک نے یہ نظریہ اپنایا ہے کہ سیف العدل اپنی تنظیم سے اختلاف نہیں کرتے اور اب ایک حقیقی رہنما بن چکے ہیں۔

ایک مصری سکیورٹی ذرائع نے بتایا کہ اس کا اصل نام محمد صلاح الذین زیدان ہے۔ وہ القاعدہ کے عسکری ونگ کے انچارج تھے۔ مغربی انٹیلی جنس ایجنسیوں نے سیف العدل کو تنظیم کے سابق رہنما محمد ابراہیم مکاوی کے ساتھ ملا کر الجھا دیا ہے۔ مغربی ایجنسیوں کا ماننا تھا کہ مکاوی ہی ’’سیف العدل‘‘ ہیں۔

سیف العد ل 1960 میں قاہرہ کے شمال میں واقع منوفیہ گورنریٹ میں پیدا ہوا۔ اس نے مصری فوج میں شمولیت اختیار کی لیکن سابق صدر انور سادات کے قتل کے الزام میں “جہاد تنظیم” کو بحال کرنے کی کوشش کے الزام میں 1987 میں اسے گرفتار کر لیا گیا۔ انہوں نے سابق وزیر داخلہ میجر جنرل حسن ابو پاشا کو قتل کی کوشش میں بھی حصہ لیا تھا۔

سیف العدل نے 1988 میں افغانستان کا سفر کیا اور مصطفیٰ حامد کی بیٹی سے شادی کی۔ مصطفی حامد کو ابو الولید المصری کے نام سے جانا جاتا ہے۔ وہ القاعدہ کے ایک مورخ اور اسامہ بن لادن کے سیاسی مشیر تھے۔ سیف العدل 1992 میں تنظیم کے بانی اسامہ بن لادن کے ساتھ سوڈان بھی گیا اور بعد میں اسے قندھار میں جنگجوؤں کو تربیت دینے کی ذمہ داری سونپی گئی۔اس نے صومالیہ اور افغانستان میں تنظیم کے لیے آپریشن بھی کیا۔

سیف العدل 1990 کی دہائی کے وسط میں القاعدہ کی سکیورٹی کمیٹی کے سربراہ کے عہدے پر فائز رہے، بن لادن نے انہیں تنظیم کی شوریٰ کونسل کی رکنیت دی۔ پھر اس نے القاعدہ کے فوجی ڈھانچے کی ذمہ داری سنبھالی اور سوڈان، پاکستان اور افغانستان میں تربیتی کیمپ قائم کیے۔ سیف العدل 2001 میں افغانستان پر امریکی بمباری کے بعد ایران فرار ہو گیا تھا اور اب تک وہاں موجود ہونے کا امکان ہے۔