کراچی: پیپلز پارٹی سندھ کے صدر و سینیٹر نثار کھوڑو نے ڈیجیٹل مردم شماری کے فارم میں غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت اور انہیں الگ خانے میں رکھنے کا طریقہ وضع نہ ہونے پر خدشات کا اظہار کرتے ہوئے مطالبہ کیا ہے کہ ڈیجیٹل مردم شماری میں شناختی کارڈ کی شرط رکھ کر جو جہاں جس صوبے میں موجود ہے ان تمام لوگوں کو اس صوبے میں شمار کرکے غیر قانونی تارکین وطن کو الگ خانے میں رکھا جائے۔
سندھ اسمبلی کمیٹی روم میں پریس کانفرنس کرتے ہوئےانہوں نے کہا کہ سندھ کے عوام کو غیر قانونی تارکین وطن کی شناخت کے موجودہ طریقہ کار پر خدشات ہیں کیوں کہ مردم شماری کے فارم میں شناختی کارڈ کی شرط نہ ہونے کی وجہ سے یہ کیسے معلوم ہوسکے گا کہ شمار ہونے والا پاکستانی ہے یا غیر قانونی تارکین وطن ہے۔ 2.5 ملین غیر قانونی تارکین وطن سندھ میں موجود ہیں جن کی تعداد 2023ئ تک بڑھ چکی ہے، نارا کا ادارہ غیر قانونی تارکین وطن کی رجسٹریشن کا عمل تیز کرکے بارڈرز پر چیکنگ کا نظام سخت کیا جائے۔
انہوں نے کہاکہ ڈیجیٹل مردم شماری میں جو شخص جس صوبے میں موجود ہے اس شخص کو اس صوبے میں گنا جائے اور کسی سے مستقل ایڈریس نہ پوچھا جائے،اگر سندھ میں موجود سب لوگوں کو نہیں گنا گیا تو پھر سندھ کا این ایف سی میں حصہ متاثر ہوگا۔
