Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کورنگی صنعتی علاقے میں غریب آدمی کی حلال روزی بھی جرم | زرائع نیوز

کورنگی صنعتی علاقے میں غریب آدمی کی حلال روزی بھی جرم

کراچی : تحریر ریحان حنیف !

ضلع کورنگی کا ایک بڑا حصہ صنعتی علاقہ ہے جہاں مقامی اور بین الاقوامی صنعتیں قائم ہیں صنعتوں اور انکے مالکان کو درپیش مسائل اور انکے حل کے لیے ایک ادارہ قائم ہے جو کورنگی ایسوسی ایشن فار ٹریڈنگ اینڈ انڈسٹری ( کاٹی ) نام سے فعال ہے اسکے عہدے داران و ممبران کورنگی صنعتی ایریا میں قائم صنعتوں کے مالکان ہیں اب چونکہ صنعتیں ملک کی معیشت میں ریڑھ کی ہڈی کی مانند ہوتی ہیں اس لیے سرکاری سطح پر صنعتوں کے مالکان کے سرکاری افسران ہو یا حکومتی شخصیات کو ناز نخرے اٹھانے پڑتے ہیں –

انکے ٹیکس کی مدد سے قومی خزانہ بھرتا ہے وہ ہماری مطلب عوام کی بد نصیبی ہے آنے اور جانے والی حکومتوں کو خزانہ خالی ملتا ہے وہ ٹیکس کہاں جاتا ہے یہ الگ بات ہے اس کے لیے ایک الگ تحریر لکھوں گا حکومتی سطح پر صنعتوں کے مالکان من مانی کرنے کے عادی ہو چکے ہیں ۔

غریب آدمی کا انکے سامنے کچھ بولنا بہت دور کی بات ہے ضلع کا ڈی سی یا ضلع ایس ایس پی انکے سامنے کچھ نہیں بول سکتا کیونکہ یہ جلد ہی صنعتیں بند کرنے اور ٹیکس روکنے جیسی بلیک میلینگ پر اتر جاتے ہیں حقیقت اگر بیان کروں تو ملک کا وزیر اعظم بھی انھیں کچھ نہیں کہ سکتا کیونکہ ملک کی معیشت انھی کے ہاتھ میں ہوتی ہے جب چاھیں سرکار کو ہلا سکتے ہیں۔

یہی وجہ ہے کسی قسم کا کوئ قانون یا قانون پر عمل درآمد کرتے دیکھائ نہیں دیتے انکی صنعتیں اپنی لیز جگہ سے زیادہ رقبے پر پودوں کی باڑ لگا کر قبضہ کی ہوئ ہیں انکے ملازمین کی گاڑی اور موٹر بائک پارکنگ سے سروس روڈ فٹ پاتھ نالے بھرے رہتے ہیں کوئ پوچھنے والا نہیں ہے ہے انکی فیکٹریوں سے زہریلے کمیکل والا گندا پانی بغیر آر او کئے سیورج کی لائن میں جاتا ہے جس سے آئے دن سیوریج کی لائن بند ہونے سے روڈوں پر کھڑا رہتا ہے جس سے راہگیروں کو مشکلات کا سامنا رہتا ہے انکی صنعتوں میں کام کرنے والے نوکروں کو کسی قسم کی کوئی سہولیات مہیا نہیں۔

آئے دن مزدور اپنے حقوق کے لیے سراپا احتجاج کرتے نظر آتے ہیں کوئی انھیں پوچھنے والا نہیں صحافیوں کی صحافت بھی بے بس نظر آتی ہے مگر کہتے ہیں ہر دولت مند خدا ترس نہیں ہوتا نا ہر دولت مند فرعون ہوتا ہے ایسا ہی کچھ اسی طرح کورنگی کاٹی کی کابینہ میں موجود چند ایسے لوگ شامل ہیں جو غریبوں کے لیے فرعون سے کم نہیں ہیں یہ وہ دولت مند ہیں جنہوں نے غربت تو بہت دور کی بات زندگی کے کبھی نشیب و فراز تک نہیں دیکھے ان جیسے لوگوں کو غریب انسان اپنے قریب بھی دیکھنا اپنے شان و شوکت کے خلاف نظر آتے ہیں۔

اس لیے کورنگی صنعتی علاقے میں وہ نہیں چاھتے کوئ غریب آدمی ٹھیلہ یا کیبن لگا کر اپنے بچوں کے لیے باعزت روزگار کے زریعے جند سو روپے کمائے اس لیے وہ ایس ایس پی کو یہ الزام لگا کر ہٹوا دیتے ہیں کہ یہ ڈکیتوں کے سہولت کار ہیں مگر جب غریب ٹھیلے والا یا کیبن والا اپنی غربت اور فاکہ کشی سے تنگ آ کر چوری چھپے کہی سائیڈ پر اپنا ٹھیہ لگاتا ہے تو یہ پولیس کے زریعے اس کو گرفتار کرو اکر ایف آئ آر کٹوا کر جیل بھیج دیتے ہیں۔

إِنَّا لِلّهِ وَإِنَّـا إِلَيْهِ رَاجِعونَ‎ سارے صنعت کار ایسے نہیں مگر چند ایسے ہیں جنھوں نے غریبوں پر ظلم کے پہاڑ توڑے ہوئے ہیں اور وہ کاٹی کی انتظامیہ میں شامل ہو کر اپنی فرعونیت کے زریعے کاٹی کے ادارے اور صنعت کاروں کی بدنامی کا باعث بن رہے ہیں انکو اپنے غیر قانونی عمل نظر نہیں آتے مگر کسی غریب کا ٹھیہ غیر قانونی نظر آتا ہے وجہ صرف اتنی سی ہے اپنی صنعتوں کے سامنے کیسے کسی غریب کو کھڑا دیکھ سکتے ہیں۔