ریاض،نیویارک : سعودی عرب کے وزیر خارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے کہا ہے کہ ایران سے سفارتی تعلقات بحالی کا مطلب تمام اختلافات کا خاتمہ نہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران جوہری ذمہ داریاں پوری کرے،ایرانی ہم منصب سے جلد ملاقات کا منتظر ہوں ،اگلے 2 ماہ میں تعلقات بحال ہونگے دوسری جانب اقوام متحدہ میں ایران کے مشن نے کہا ہے کہ سعودی عرب کے ساتھ تعلقات کو معمول پر لانے کے معاہدے سے یمن میں جنگ کے خاتمے اور تنازعے کے سیاسی حل کی راہ ہموار ہوگی جبکہ بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ پس پردہ حقائق کچھ اور ہیں ایک اسرائیلی وفد کو سعودی عرب میں اقوام متحدہ کے سیاحتی پروگرام میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی لیکن سعودی حکام نے انہیں ویزا دینے سے انکار کر دیا۔ سعودی عرب نے ہفتے میں 3 روزہ تعطیلات پر غور شروع کردیاْ۔
گل دائودی نے ’’ المسمّیٰ ‘‘ پہاڑ کو دلکش بنادیا ہے جبکہ پولیس اور دیگر حکام نے 2 مقامات پرمنشیات کی سمگلنگ کی کوشش ناکا م بنا دی ۔
سعودی عرب کے وزیرخارجہ شہزادہ فیصل بن فرحان نے عرب میڈیا کو انٹرویو میں کہا کہ ایران اور سعودی عرب بات چیت کے ذریعے اختلافات حل کرنا چاہتے ہیں، دونوں ممالک کے درمیان مفاہمت کا معاہدہ مشترکہ خواہشات کا عکاس ہے،ایران کی جوہری صلاحیتوں میں مسلسل اضافہ باعث تشویش ہے، خلیجی ممالک، مشرق وسطی کو تباہی پھیلانے والے ہتھیاروں سے پاک کرنے کے مطالبے کو دہراتے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ایران جوہری ذمے داریوں کو پورا کرے، ایران بین الاقوامی جوہری توانائی ایجنسی کے ساتھ تعاون بڑھائے، چین کے سعودی عرب اور ایران کے ساتھ مثبت تعلقات ہیں۔
دریں اثنا عالمی میڈیا پر اسرائیل اور سعودی عرب کے درمیان سفارتی تعلقات سے متعلقہ رپورٹس نت نئے انداز سے منظر عام پر آتی ہیں، دونوں ممالک کے درمیان سفارتی تعلقات قائم کرنے کی کسی کی خواہش تو ہو سکتی ہے لیکن پسِ پردہ حقائق کچھ اور ہیں۔ بلومبرگ کی ایک رپورٹ میں انکشاف کیا گیا ہے کہ ایک اسرائیلی وفد کو سعودی عرب میں اقوام متحدہ کے سیاحتی پروگرام میں شرکت کی دعوت دی گئی تھی لیکن سعودی حکام نے انہیں ویزا دینے سے انکار کر دیا۔
وفد میں کفر کاما کے سرکیشین قصبے کے رہائشی شامل تھے، جنہیں اقوام متحدہ کی جانب سے سیاحتی مقامات کی خصوصی فہرست میں شامل کیے جانے کے بعد ایک خصوصی تقریب میں مدعو کیا گیا تھا۔
