Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کراچی میں900 اسکیموں پرکام جاری ہے، ناصرشاہ،سندھ اسمبلی میں بریفنگ | زرائع نیوز

کراچی میں900 اسکیموں پرکام جاری ہے، ناصرشاہ،سندھ اسمبلی میں بریفنگ

کراچی : سندھ کے وزیر بلدیات سید ناصر حسین شاہ نے کہا ہے کہ کراچی میں 900 کے قریب چھوٹی بڑی اسکیموں پرکام چل رہاہے۔وزیر اعلیٰ سندھ نے 53 ایم جی ڈی کی جس اسکیم کا اعلان کیا تھا اس پر کام ہو رہا ہے،ا س منصوبے کی تکمیل سے ڈیفنس کلفٹن اور قریبی علاقوں کو پانی مل سکے گا۔شہر میں جاری ترقیاتی کاموں کے حوالے سے ارکان کے لیے ایک بریفننگ رکھی جائے گی۔

انہوں نے یہ بات جمعہ کو سندھ اسمبلی میں پبلک ہیلتھ انجینرنگ سے متعلق وقفہ سوالات کے دوران ارکان کے مختلف تحریری اور ضمنی سوالوں کا جواب دیتے ہوئے کہی ۔

سندھ اسمبلی کا اجلاس جمعہ کو ایک گھنٹہ تاخیر سے اسپیکر آغا سراج درانی کی صدارت میں شروع ہوا تھا۔صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے ایوان کو بتایا کہ کھپرو بس اسٹینڈ کی اسکیم جون 2023 تک مکمل ہو جائے گی۔جس پر 79ملین کی لاگت آئے گی۔ایک سوال کے جواب میں انہوں نے بتایا کہ کراچی کے ضلع جنوبی میں بہت سے آراو پلانٹ چل رہے ہیں۔

وزیر بلدیات کا کہنا تھا کہ مٹھی اور اسلام کوٹ میں750 آر او پلانٹ لگائے گئے ہیں جن میں سے340آر او پلانٹ چل رہے ہیں، اچھرو تھر میں پانی پہنچایا گیا اوردو اسکیموں کے تحت یہ آر او پلانٹ لگائے تھے۔

انہوں نے کہا کہ آر او پلانٹس کی تنصیب پر حکومت سندھ نے 5 ارب 24 کروڑ روپے خرچ کئے ہیں،تمام آر او پلانٹساپریل یا مئی تک آر او پلانٹ کو مکمل فنکشنل کردیں گے،آراو پلانٹس کے حوالے سے مختلف الزامات پر انکوائری ہو چکی ہے۔صوبائی وزیر ناصر حسین شاہ نے کہا کہ جامشورو اور کراچی کے لوگوں کو بھی ان پلانٹس سے پانی مہیا کیا جاتا ہے یہ پلانٹ ان آبادیوں میں لگائے گئے ہیں۔جہاں میٹھا پانی نہیں ہے۔

انہوں نے اپوزیشن رکن خرم شیر زمان پر طنز کرتے ہوئے کہا کہ انہیں ٹینکرز ملتے ہیں۔لیکن وہ تقسیم کر دیتے ہیں۔انہوں نے کہا کہ تھر میں اس وقت کے صدر مملکت آصف علی زرداری کی جانب سے جو آر او پلانٹ لگایا تھا اس میں ابھی کچھ ایشو ہیں لیکن انہیں دور کردیا جائے گا۔

وزیر بلدیات نے کہا کہ آج جو ہم مشکلات بھگت رہے ہیں وہ پی ٹی آئی کی حکومت کی نا اہلی کی وجہ سے ہیں،لاہور میں پہلے کبھی ایسے واقعات نہیں ہوئے ،لاہور میں پولیس پرپیٹرول بم مارے گئے۔ان کا رویہ ہے کہ میں نہ مانو، میں ہوں تو سب ٹھیک نہیں تو کچھ نہیں ہے۔

وقفہ سوالات کے بعد جب اسپیکر نے وزیر اعلیٰ سندھ کو پری بجٹ خطاب کرنے کی دعوت دی تو مراد علی شاہ کی تقریر سے پہلے پی ٹی آئی کے خرم شیر زمان اپنی نشست سے اٹھ کھڑے ہوئے۔

مگر اسپیکر نے انہیں بولنے کی اجازت دینے سے منع کردیا جس پر پی ٹی آئی کے ارکان نے ایوان سے احتجاجاً وا ک آئوٹ کر دیا اور وزیر اعلیٰ کی تقریر بھی نہیں سنی۔

اس موقع پر اسپیکر آغا سراج درانی نے کہا کہ رمضان المبارک آرہا ہے اس مقدس مہینے میں سب مل کر دعا کریں کہ جو لوگ پاکستان کے خلاف ہیں اور ملک توڑنا چاہتے ہیں ان سے قوم کی جان چھوٹ جائے۔