Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
پشاور:گھر کی تعمیر کے دوران قدیم 3منزلہ تہہ خانہ دریافت | زرائع نیوز

پشاور:گھر کی تعمیر کے دوران قدیم 3منزلہ تہہ خانہ دریافت

پشاور : پشاور میں مکان کی تعمیر کے دوران زیر زمین تقریباً 100 سال سے بھی پْرانا 3منزلہ تہہ خانہ دریافت ہوا ہے۔

پشاور کے اندرون شہر کے علاقے آسیہ میں گھر کی تعمیرکیلئےجب کھدائی کی گئی تو تہہ خانہ دریافت ہوا۔جس کے بعد تہہ خانہ دیکھنے کے لیے شہریوں کاتانتا بندھ گیا۔

بعدازاں محکمہ آثار قدیمہ کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی اور صورتحال کا جائزہ لیکر تعمیر کو فوری طور پر روک کر گھر کو سیل کردیا ہے۔

ماہرین آثار قدیمہ نے ابتدائی جائزے کے بعد بتایا کہ گھر 100 سے بھی پرانا معلوم ہوتا ہے۔

محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق تہہ خانہ سکھوں کے دور میں تعمیر ہوا جس میں لکڑی کا استعمال کیا گیا سیٹھی ہاوس کے تہہ خانہ سے مماثلت رکھا ہے، زیر تعمیر مکان کو قبضے میں لے لیا آثار قدیمہ ایکٹ کے تحت کاروائی کے لیے پولیس کو درخواست دے دی گئی۔

پشاور کے علاقہ سرکی میں چھ مرلہ مکان تعمیر کیا جارہا تھا کہ مکان کے نیچے سے سینکٹروں سال پرانا تہہ خانہ نکل آیا جو سکھ دور حکومت میں بنایا گیا ہے تہہ خانہ کی اطلاع پر محکمہ آثار قدیمہ کی ٹیم موقع پر پہنچ گئی جنہوں نے تعمیراتی کام روک کر مکان قبضے میں لے لیا۔

مکان پر سیکورٹی اہلکار تعینات کردیے گئے محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق مکان کی تعمیر کے دوران تہہ خانہ سینکٹروں سال پرانا ہے، جو سکھ دور حکومت میں بنایا گیا ہے۔

بتایا گیا ہے کہ تہہ خانہ کی دیواریں انتہائی مہارت اور پختہ بنائی گئی ہے تہہ خانہ میں لکڑی کا استعمال کیا گیا ہے اور تہہ خانے کی چھت کے لیے بھی لکڑی کے پلر بنائے گئے ہیں۔

محکمہ آثار قدیمہ کے مطابق اسی طرح کا تہہ خانہ سیٹھی ہاوس میں بھی بنا ہوا ہے جس سے اندازہ ہوتا ہے کہ یہ مکان اسی دور کا بنا ہوا ہے۔

سینکٹروں سال پرانے تعمیرات کی مرمت کے لیے محکمہ آثار قدیمہ سے اجازت لینا ضروری ہے مذکورہ مکان کی تعمیر کے لیے اجازت بھی نہیں لی گئی اور مکان بھی گرا دیا گیا ہے جس پر آثار قدیمہ ایکٹ کے تحت کاروائی کے لیے پویس کو درخواست دے دی گئی۔