کراچی : وزیر اطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل میمن کی جانب سے عید پرمسافروں سے زائد کرایہ وصول کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے خلاف کارروائی کے دعووں کے باوجود ٹرانسپورٹرز کی من مانیاں جاری ہیں اور ان کے خلاف کارروائیاں آٹے میں نمک کے برابر ہیں ۔
عید منانے کے لیے اپنے آبائی علاقوں کا رخ کرنے والے ٹرانسپورٹرز کے ہاتھوں لٹنے پرمجبورہیں،ٹرانسپورٹرز نے پردیسیوں کو دونوں ہاتھوں سے لوٹنا شروع کردیا ہے۔

مسافر ٹرانسپورٹرز کے من مانے کرائے دینے پر مجبور ہیں۔مسافروں کا کہنا ہےکہ کراچی سے حیدرآباد جانے والے مسافروں سے 2 ہزار روپے،سکھرکے لیے 3ہزار،صادق آباد کے لیے4000 کرایہ وصول کیا جارہا ہے جبکہ سانگھڑ،نوابشاہ،مورو، جانے والے مسافروں سے 2300 کرایہ وصول کیا جارہا ہے۔عام دنوں میں حیدرآباد تک کرایہ 500 اور سانگھڑ تک 700 روپے لیا جاتا ہے۔عید سے قبل انٹرسٹی بس مالکان کی طرف سے کرایوں میں اضافہ کے بعد ایک شہرسے دوسرے شہرجانے کے لیے بھی دوگنا کرایہ وصول کیا جارہا ہے۔
بس اورکوچز مالکان کا کہنا ہےکہ اندرون ملک مختلف شہروں سے واپسی میں گاڑیاں خالی آرہی ہیں اور ڈیزل بھی مہنگا ہے جس وجہ سے کرایوں میں اضافہ کیا گیا ہے۔
وزیراطلاعات و ٹرانسپورٹ شرجیل انعام میمن کا کہنا ہے کہ مسافروں کی جانب سے زائد کرائے کی وصولی کی شکایت کے بعد زائد کرایہ وصول کرنے والوں کے خلاف کارروائیاں تیز کردی ہیں۔

سیکرٹری ٹرانسپورٹ نے زائد کرایہ وصول کرنے پر پبلک ٹرانسپورٹ کی 16 کمپنیوں کو وارننگ جاری کردی ہے۔ کارروائی کے دوران 3 دنوں میں مسافروں کو 15 لاکھ روپے واپس کیے ہیں۔
انٹرسٹی ٹرانسپورٹ کی جن 16ٹرانسپورٹرزکو وارننگ جاری کی گئی ہے ان میں اے کے سی،المدینہ،کے سی ایس جیوفرحان کوچ سروس ،عمیرموورز،جیوفیضان،شالیمار ایکسپریس ،اے کے جی،جیوفرحان،خان موورز،جیولاڑکانہ سمیت دیگرکوچزاوربس سروس شامل ہیں ۔
