واشنگٹن : امریکی صدر جو بائیڈن کے افغانستان سے امریکی فوج کے انخلاء کے دو سال سے بھی کم وقت کے بعد یہ ملک داعش خراسان کے لیے ایک اہم رابطہ مرکز بن گیا ہے، جہاں سے یہ دہشت گرد گروہ یورپ اور ایشیا میں حملوں کی منصوبہ بندی کر رہا ہے اور امریکا کے خلاف سازشیں کرنے کی منصوبہ بندی کرتا ہے۔
رپورٹ کے مطابق امریکی محکمہ دفاع پینٹاگان کی لیک ہونے والی دستاویزات میں داعش خراسان کے خطرے کو سلامتی کی بڑھتی ہوئی تشویش قرار دیا ہے۔
حملوں کی منصوبہ بندی واشنگٹن پوسٹ کی طرف سے حاصل کردہ پینٹاگون کی لیک ہونے والی دستاویزات سے پتہ چلتا ہے داعش خراسان سفارت خانوں، گرجا گھروں اور شاپنگ مالز کو نشانہ بنانے کی منصوبہ بندی کررہا ہے۔
پینٹاگان کے حکام کو دسمبر میں افغانستان میں داعش کے رہ نماؤں کی طرف سے بنائے گئے ایسے نو پلاٹوں کے بارے میں علم تھا اور پہلے نامعلوم “ٹاپ سیکرٹ” کے جائزے کے مطابق فروری تک یہ تعداد 15 تک پہنچ گئی تھی۔
(مانیٹرنگ ڈیسک, نیٹ نیوز )
