Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
فاطمہ بھٹو نے سندھ حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا | زرائع نیوز

فاطمہ بھٹو نے سندھ حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا

کراچی : بانی ذوالفقار علی بھٹو کی پوتی اور میر مرتضیٰ بھٹو کی بیٹی فاطمہ بھٹو نے سندھ حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنا ڈالا۔

زرائع کے مطابق ٹوئٹر پر جاری بیان میں فاطمہ بھٹو نے کہا “میں نےفروری میں سجاول کے گھوسٹ اسکول کی پوسٹ کی تھی،یہ گھوسٹ اسکول سندھ حکومت کی بدعنوانی کی بدولت خالی تھا۔

اسکول میں جھاڑیاں اُگ رہی تھیں اور اب بھی یہی حال ہے۔

ایک اہلکار میری پوسٹ کےبعد ملنےآیا تھا لیکن اسکول کا وہی حال ہے، میرےلکھنے کے بعد کچھ بھی نہیں کیا گیا”۔

فاطمہ نے سوال کیا کون سے اساتذہ یہاں کام کرنے کے طور پر رجسٹرڈ ہیں؟ وہ اساتذہ سرکاری تنخواہ لے رہے ہیں، ہمیں ان کے نام معلوم ہونے چاہئیں۔

10سال پہلے تعمیرہوا سجاول تعلقہ ہسپتال بھی چھوڑدیا گیا۔

خواتین کو بنیادی طبی امداد کے لیے لاڑکانہ جانا پڑتا ہے، اس سفر کے دوران اکثر خواتین کی موت بھی واقع ہو جاتی ہے۔

یہ عملاً بدعنوانی ہے آپ جانتے ہیں کہ پیسہ کہاں جا رہا ہے، پورا ملک جانتا ہے، نسلیں اس کی قیمت ادا کریں گی۔