کراچی: سندھ حکومت اورفلورملزایسوسی ایشن کے درمیان ہونے والے مذاکرات ابتدائی طورپر ناکام ہوگئے ہیں،کراچی میں ایک بار پھرآٹے کے بحران کا خدشہ ہے۔
فلورملزایسوسی ایشن نے کراچی میں تمام فلور ملز غیر معینہ مدت تک بند کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔فلور ملز ایسوسی ایشن نے محکمہ خوراک سندھ پر کراچی آنے والی گندم کی ٹرکوں سے بھتہ لینے کا الزام عائد کرتے ہوئے کہا ہے کہ محکمہ خوراک سندھ نے 13 پوائنٹس پر چیک پوسٹیں قائم کی ہیں، چیک پوسٹوں نے بھتہ خوری کے سابقہ ریکارڈ توڑ دئیے ہیں،ان چیک پوسٹوں پر ایک ٹرک سے ایک لاکھ روپے بھتہ وصول کر کے کراچی گندم لانے کی اجازت دی جاتی ہے۔
چیک پوسٹ کو ختم کرنے کے مطالبات منظور نہیں ہوئے تو غیر معینہ مدت تک ہڑتال کرنے پر مجبور ہوں گے،سندھ حکومت کراچی گندم لانے پربلیک میلنگ کی آخری حد تک چلی گئی ہے۔
فلور ملزایسوسی ایشن کا کہنا ہے کہ سندھ حکومت نے مذاکرات کے نام پرلالی پاپ دیا ہے،وزیرِاعلیٰ سے دو ماہ سے ملاقات کیلئے وقت مانگ رہے ہیں،وزیرِاعلیٰ سندھ وقت دینے کو تیارنہیں ہیں۔
جمعرات سے کراچی میں آٹا نایاب ہوجائے گا،خیبرپختونخوا اورپنجاب کے فلور ملرز بھی جمعے اورپیرسے ہڑتال پرجارہے ہیں جس کی ذمے داری حکومت پرعائد ہوتی ہے۔
دوسری شہر قائد میں ایک بار پھر آٹے کے بحران کا خدشہ پیدا ہوگیا۔فلورملزایسوسی ایشن نے ایک بارپھرآٹے کی سپلائی روکنے کی دھمکی دے دی اورسندھ حکومت پردھوکہ دہی کا الزام عائد کردیا۔چیئرمین کا کہنا تھا کہ 4 کروڑ گندم کی بوریاں سندھ میں اسٹاک کی جاچکی ہیں، سندھ سے آنے والی گندم کو بلا روک ٹوک کراچی آنے کی اجازت دی جائے۔
انھوں نے کہا کہ شہرمیں مہنگا آٹے فروخت کرنے والے دکاندار اورٹریڈرز ذمہ دارہیں ، فلارملز نے کراچی میں گندم بحران کے باوجود آٹے کی قیمت میں اضافہ نہیں کیا ، فلارملزاب بھی128روپے فی کلو آٹا فروخت کررہی ہیں۔
