عوامی نیشنل پارٹی خیبرپختونخوا کے صدر ایمل ولی نے افغان مہاجرین کی واپسی پر اعتراض اٹھاتے ہوئے کہا ہے کہ اگر انہیں پاکستان میں رہنے کا حق نہیں تو پھر ہندوستان کے مہاجرین کو بھی پاکستان میں رہنے کا حق نہیں ہے۔
ایک جلسے میں خطاب کرتے ہوئے ایمل ولی نے کہا کہ افغان مہاجرین کے حوالہ سے نگراں حکومت اپیکس کمیٹی میں کس طرح فیصلے کرتی ہے؟ ان کا کام فوری طور پر صرف اور صرف شفاف انتخابات کرانا ہے۔
انہوں نے کہا کہ آپ کو اگر مہاجر سے تکلیف ہے تو پھر سب کیلیے ایک پالیسی بنائیں، افغان مہاجرین کو واپس بھیج دیں لیکن مہاجرین صرف افغانستان کے نہیں ہیں۔ اگر افغان مہاجرین کو یہاں رہنے کا حق نہیں تو پھر کشمیر اور ہندوستان کے مہاجرین کو بھی یہاں رہنے کا حق نہیں ہے۔
افغان مہاجرین کے حوالہ سے نگراں حکومت اپیکس کمیٹی میں کس طرح فیصلے کرتی ہے؟ ان کا کام فوری طور پر صرف اور صرف شفاف انتخابات کرانا ہے۔ آپ کو اگر مہاجر سے تکلیف ہے تو پھر پالیسی سب کیلئے ایک بنائے۔ چلیں مانتے ہیں کہ افغان مہاجرین کو واپس بھیج دیں لیکن مہاجرین صرف افغانستان کے نہیں… pic.twitter.com/WYNrCDFlzh
— Awami National Party (@ANPMarkaz) October 6, 2023
ایمل ولی نے کہا کہ پھر اسامہ بن لادن اور اسکے اولاد کو بھی یہاں رہنے کا حق نہیں ہے۔ اُن کا کہنا تھا کہ افغان مہاجرین کو مجبور کرکے یہاں لایا گیا، وہاں جو آگ لگی ہے اس کا آغاز جنرل ضیا نے کیا تھا۔ جب افغان مہاجرین یہاں آرہے تھے تو ریاست پھولوں کے ساتھ استقبال کررہی تھی کیونکہ اس وقت انکے نام پر پیسہ کمانا تھا۔
اے این پی کے رہنما نے کہا کہ افغان قوم کو یہاں آئین اور قانون کے تحت زندگی بسر کرنے کا موقع دیا جائے، اگر نہیں دیں گے تو افغان قوم کیلئے ہر پلیٹ فارم پر آواز اٹھانے والے ابھی زندہ ہیں۔
