سندھ میں تقسیم کی آوازیں نئی نہیں۔ ایم کیو ایم بننے کے بعد سے تو الگ صوبے کی بازگشت اکثر سنائی دیتی رہی۔ فاروق ستار نے بھی ہمیشہ انتظامی یونٹ بڑھانے پر زور دیا۔ ایک بار پھر متحدہ قومی موومنٹ سندھ اسمبلی میں نئے صوبے کا مطالبہ لے کر پہنچ گئی ہے وہ بھی اُس وقت جب پنجاب میں جنوبی پنجاب صوبہ محاذ متحرک ہوگیا ہے۔ ایم کیو ایم کے رکن اسمبلی خالد احمد نے اسمبلی میں شہری سندھ صوبے کے قیام کا بل جمع کرادیا۔
مطالبہ کیا گیا کہ آئینی اور قانونی تقاضوں کے تحت نئے صوبے کے قیام کے حوالے سے بل پر بحث کی جائے۔ انیس سو تہتر میں دس سال کے لیے لگنے والا کوٹہ سسٹم پنتالیس سال بعد بھی رائج ہے۔ جس کے باعث شہری سندھ کے عوام جائز حقوق سے محروم ہیں۔ شہری سندھ کی عوام کو مسلسل تعلیم ، روزگار اور صحت جیسی بنیادی سہولتوں سے محروم رکھا گیا ہے۔
پیپلز پارٹی کے کوٹہ سسٹم کے تحت شہری سندھ کو چالیس فیصد نہیں دیا گیا۔ انہی ناانصافیوں کے پیش نظر کراچی ، حیدرآباد ، میرپور خاص ، نوابشاہ اور سکھر کے شہری علاقوں میں شہری سندھ صوبے کا مطالبہ زورپکڑ رہا ہے۔ سندھ کی عوام کو برابری کے حقوق دینے کے لیے اس بل کو منظور کرنا ہوگا۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
