Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
واسع جلیل نے متحدہ کیوں چھوڑی؟ | زرائع نیوز

واسع جلیل نے متحدہ کیوں چھوڑی؟

لندن: ایم کیو ایم لندن کے سابق کنونیئر ندیم نصرت اور رابطہ کمیٹی کے درمیان تنازع شدت اختیار کرگیا، رابطہ کمیٹی نے تمام کارکنان کو سابق کنونیئر یا اُن کے رفقاء سے رابطوں سے روک دیا، واسع جلیل کا مستعفیٰ ہونے بھی اسی سلسلے کی کڑی ہے.

تفصیلات کے مطابق گذشتہ برس تک ایم کیو ایم لندن کے لیے کنونیئر کی ذمہ داریاں سرانجام دینے والے ندیم نصرت نے پارٹی کی جانب سے معطلی کا بدلہ لینے کے لیے نئی حکمت مرتب کرلی۔

ندیم نصرت نے لندن سے امریکا واپسی کے بعد کراچی کی آزادی یعنی ’فری کراچی مہم‘ کا آغاز کیا جس کے لیے انہوں نے ہزاروں ڈالر بے دریغ استعمال کیے، ذرائع کے مطابق سابق کنونیئر اپنی مہم کے سسلسلے میں اب تک 70 ہزار سے زائد ڈالر خرچ کرچکے۔

لندن کی موجودہ قیادت نے ندیم نصرت کو گزشتہ برس تنظیمی عہدوں سے سبکدوش کرتے ہوئے الزام عائد کیا تھا کہ جس سازشی لائن پر دیگر لوگ چلے ندیم نصرت بھی اب اُسی پر چل نکلے۔

لندن قیادت نے ندیم نصرت پر اسٹیبلشمنٹ سے رابطوں کا الزام عائد کیا اور اپنے تمام کارکنان کو ہدایت کی کہ وہ سابق کنونیئر یا اُن کے ساتھیوں سے بالکل رابطہ نہ رکھیں کیونکہ یہ لوگ پارٹی کے خلاف سازشوں میں سرگرم ہیں۔

گذشتہ دنوں متحدہ لندن کی قیادت نے رابطوں کے لیے بنائے جانے والے واٹس ایپ گروپ کو اچانک ختم کرنے کا فیصلہ کیا،جس پر رابطہ کمیٹی کے ذرائع کا مؤقف تھا کہ ندیم نصرت کے لوگ مختلف گروپس میں بیٹھ کر پارٹی کی باتیں آگے پیچھے کرتے ہوئے سازشیں کررہی ہے۔

واٹس ایپ گروپ ختم ہونے کے بعد سے ندیم نصرت اور فری کراچی مہم میں اُن کا ساتھ دینے والے افراد نے لندن رابطہ کمیٹی کو مہاجر قوم کا دشمن قرار دیتے ہوئے گروپس کو ختم کرنے کی شدید مذمت کی۔

دوسری جانب واسع جلیل نے ندیم نصرت اور ایم کیو ایم لندن کے مابین جاری کشیدگی کو دیکھتے ہوئے سیاست سے علیحدگی اور پارٹی کی بنیادی رکنیت سے مستعفیٰ ہونے کا اعلان کردیا۔ اُن کا کہنا تھا کہ اب میں کسی گروپ یا دھڑے کا حصہ نہیں اور نہ ہی مستقبل میں کسی مذہبی و سیاسی جماعت کا حصہ بنوں گا۔