اسلام آباد (ڈیلی پاکستان آن لائن) میڈیا میں ان دنوں سینسر شپ کے حوالے سے بحث زور و شور سے جاری ہے، جس میں یہ انکشاف بھی سامنے آیا ہے کہ جیو ، دنیا اور ایکسپریس کے اینکرز کو ہدایات دی گئی ہیں کہ وہ رانا ثنا اللہ، طلال چوہدری اور عظمیٰ بخاری کو اپنے پروگرامز میں مدعو نہ کریں۔
پاکستان میڈیا واچ کی جانب سے ایک ٹویٹ میں کہا گیا کہ جیو نیوز، دنیا اور ایکسپریس کے اینکرز کو انتظامیہ نے ہدایت کی ہے کہ رانا ثنا اللہ، طلال چوہدری اور عظمیٰ بخاری کو اپنے پروگرامز میں مدعو نہ کریں اور اگر کوئی بھی شخص پروگرام کے دوران نواز شریف کا دفاع کرنے کی کوشش کرے تو اسے بھی فارغ کرادو، اور اگر ایسا نہیں کیا جاتا تو پھر چینلز بند کیے جاسکتے ہیں۔
ایک اور ٹویٹ میں کہا گیا ہے کہ جیو نیوز اور دنیا نیوز کو پہلے ہی حکم دیا جاچکا ہے کہ وہ احسن اقبال، خواجہ سعد رفیق اور خواجہ آصف کے ایک ایک گھنٹہ طویل ون آن ون انٹرویوز نہیں کرسکتے۔
Geo News and Dunya were already under orders not to do hour long one-on-one interviews with Ahsan Iqbal, Saad Rafique, Khawaja Asif. Instructions demand maximum coverage time for PTI followed by PPP. Dunya was forced last night not to repeat interview of Javed Hashmi #Censorship
— Pakistan Media Watch (@PakPressWatch) May 17, 2018
اینکرز کو ہدایات کی گئی ہیں کہ پی ٹی آئی کو زیادہ سے زیادہ نمائندگی دی جائے جس کے بعد پیپلز پارٹی کو اہمیت دی جائے۔ دنیا نیوز پر سینسر شپ کا عملی مظاہرہ اس وقت دیکھنے میں آیا جب جاوید ہاشمی کا انٹرویو دوبارہ نشر کرنے کی اجازت نہیں دی گئی۔
Geo News, Dunya and Express anchors have received instructions from management stop inviting Rana Sanaullah, Talal Chaudhary and Azma Bukhari to their shows and ensure any1 defending Nawaz Sharif is cut out completely. Failing to oblige will result into channels being shut down
— Pakistan Media Watch (@PakPressWatch) May 17, 2018
سینئر اینکر پرسن طلعت حسین کی جانب سے انتہائی نپے تلے انداز میں اس خبر کی تصدیق کی گئی ہے اور کہا گیا ہے کہ اس طرح کی بعض رپورٹس میں اتنی بھی مبالغہ آرائی نہیں ہے۔
Some of these reports are not highly exaggerated. pic.twitter.com/UwCzFFkcqO
— Syed Talat Hussain (@TalatHussain12) May 17, 2018
