کراچی واٹر اینڈ سیوریج بورڈ کے ڈائریکٹر نےپیر کے روز الزام عائد کیا ہے کہ سرکاری اور خفیہ اداروں کے اہلکار کنٹومنٹ ایریا کے لیے بذور اسلحہ زبردستی پانی کی سپلائی لیتے ہیں۔
سپریم کورٹ میں وائٹر اینڈ کمیشن کی سماعت کے دوران خالد شیخ کا کہنا تھا کہ خفیہ اداروں کے لیے اگر پانی کا بندوبست نہ کیا جائے تو وہ واٹر بورڈ کے عملے کر گن پوائنٹ پر یرغمال بنا کر اپنے مطالبات منواتے ہیں۔
سماعت کے دوران جسٹس (ر) امیر ہانی اسلم نے ریمارکس دیے کہ شاہ قائم کیا جانے والا خصوص پمپنگ اسٹیشن بند کرنے کے احکامات جاری کیے جائیں کیونکہ اب کارساز پر لگا پمپ باقاعدہ کام کررہا ہے اور ہائی ڈینٹ سے فضائیہ کی رہائشی کالونی کو اضافی پانی کی فراہمی روکی جائے۔
میجینگ ڈائریکٹر واٹر بورڈ نے کمیشن کو بتایا کہ ریاستی اداروں سے تعلق رکھنے والے مسلح افراد نے شاہ فیصل پمپ کو بند کروانے کے لیے اسٹاف کو ڈرایا اور دھمکایا۔ دوسری جانب پمپنگ اسٹیشن کے انچارج خالد فارقی نے دعویٰ کیا ہے کہ کچھ حساس ادارے کے لوگوں نے انہیں اغوا کیا اور پمپ بند نہ کرنے کی یقین دہانی کے بعد تشدد کر کے چھوڑ دیا۔
یہ خبر 28 مئی کو ڈان اخبار میں شائع ہوئی۔
خبر کو عام عوام تک پہنچانے میں ہمارا ساتھ دیں، صارفین کے کمنٹس سے ادارے کا کوئی تعلق نہیں ہے۔
