کراچی: شہرقائد میں بچوں کی پراسرار گمشدگی اور لاپتہ ہونے کے واقعات بڑھ گئے ہیں، گزشتہ روز 12 سالہ لڑکا اور 13 سالہ عنایہ نام کی بچی لاپتہ ہوگئی۔
ملیر گلشن احباب سے 12 سالہ نو عمر لڑکا پراسرار طور پر لاپتہ ہو گیا،کئی گھنٹے گزرجانے کے باوجود لڑکے کا کوئی سراغ نہ مل سکا، لڑکے کے والد کا کہنا ہے کہ ان کا بیٹا گھرسے ٹیوشن جانے کا کہہ کر نکلا تھا لیکن وہ ٹیوشن نہیں پہنچا۔
تفصیلات کے مطابق ملیر سی تھانے کی حدودگلشن احباب فیز2 مکان نمبر ایل51 میں رہائش پذیر سیکیورٹی گارڈ خادم بنی کا 12 سالہ بیٹا محمد حسنین پر اسرار طور پر لاپتہ ہوگیا۔
خادم نبی نے اپنے بیٹے کو محلے، رشتے داروں کے گھروں اور شہر کے تمام بڑے پارکوں الہ دین پارک ،عسکری پارک ، جہانگیر پارک ، سفاری پارک اورچڑیا گھر میں تلاش کیا لیکن ان کے بیٹے کا کوئی سراغ نہ مل سکا، ایکسپریس سے بات کرتے ہوئے لاپتہ لڑکے کے والد خادم نبی نے بتایا کہ ان کا بیٹا محمد حسنین ہفتے کی شام 4 بجے گھر سے ٹیوشن جانے کے لیے نکلا تھا تاہم 6 بجے انھیں معلوم ہوا کہ ان کا بیٹا ٹیوشن نہیں پہنچا ہے۔
جس کے بعد اس کی تلاش شروع کردی بیٹے کو ہرجگہ تلاش کیا لیکن اس کا کوئی سراغ نہ مل سکا وہ بیٹے کی گمشدگی کی رپورٹ درج کرانے ملیر سٹی تھانے بھی گئے تھے لیکن پولیس نے روایتی بے حسی کا مظاہرہ کرتے ہوئے خانہ پری کرتے ہوئے انھیں واپس لوٹا دیا صبح ہوتے ہی دوبارہ خود بیٹے کی تلاش کے لیے نکلے اور شہر کے تمام بڑے پارکوں میں اسے تلاش کیا لیکن اس کا کوئی سراغ نہیں ملا ہے۔
انھوں نے بتایا کہ ان کے 2 بیٹے ہیں جن میں سے محمد حسنین سب سے بڑا اور5 ویں جماعت کا طالب علم تھا انھوں نے بتایا کہ بیٹے کے لاپتہ ہونے پر ان کی والدہ کا برا حال ہے خادم نبی نے پولیس حکام اور حکومت سندھ سے اپیل کی ہے کہ ان کے بیٹے کو تلاش کرنے کے لیے فوری اقدامات اٹھائیں گے۔
دوسری واردات گذری کے رہائشی تاجر نے 3روز قبل اپنے گھر 13 سالہ عنایہ کو بطور ماسی ملازمت دی، ایس ایس پی ساؤتھ عمر شاہد نے ایکسپریس کو بتایا کہ 3 دن بعد جب انھوں نے بچی کی تنخواہ اور دیگر معاملات کیلیے اسے لانے والے افرادکو فون کیا تو رابطہ نہیں ہو سکا جس کے بعد انھوں نے پولیس کو تمام صورتحال سے ہفتے کی شب آگاہ کیا۔
جس پر پولیس حکام نے بچی کو تحویل میں لے کر شیلٹر ہوم منتقل کرنے کا کہا لیکن تاجر اوراہلخانہ نے اصرار کیا کہ شیلٹر ہوم کے بجائے وہ اپنے گھر میں ہی عنایہ کو رکھیں گے اور صبح تھانے آ جائیں گے جس کے بعد پولیس نے کاغذی کارروائی مکمل کی اور بیانات بھی لیے لیکن اتوار کی صبح تاجر نے پولیس کو مطلع کیا کہ بچی ان کے گھر سے بھاگ گئی ہے، پولیس واقعے کی مزید تحقیقات کر رہی ہے۔
ذرائع نے بتایا کہ عنایہ گلستان جوہر کے علاقے صفورا کی رہائشی ہے اور اپنے رشتے داروں کے ساتھ رہتی تھی، مبینہ طور پر رشتے داروں کے ظلم و ستم سے تنگ آ کر ڈیفنس میں ملازمت کی تھی، اس ضمن میں ایس ایس پی ساؤتھ کا کہنا ہے کہ پولیس واقعے کی تمام پہلوؤں سے تفتیش کر رہی ہے اور تحقیقات میں تمام صورتحال جلد واضح ہو جائے گی۔
