Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ڈاکٹر شکیل اوج، علم کی شمع کو بجھے چار برس بیت گئے، اصل قاتل آزاد | زرائع نیوز

ڈاکٹر شکیل اوج، علم کی شمع کو بجھے چار برس بیت گئے، اصل قاتل آزاد

کراچی: جامعہ کراچی اسلامک اسٹڈیز کے ڈین ڈاکٹر شکیل اوج کے قتل کو چار سال بیت گئے‘ انہیں 18 ستمبر 2014 کو قتل کیا گیا تھا ‘ آج مقتول کی چوتھی برسی منائی جارہی ہے۔

چار سال قبل کراچی کے علاقے گلشن اقبال میں واقع بیت المکرم مسجد کے قریب فائرنگ کا واقعہ پیش آیا جس کے نتیجے میں موٹر سائیکل پر سوار 2 نامعلوم افراد نے گاڑی پر اندھا دھند فائرنگ کی تھی۔

فائرنگ کے نتیجے میں جامعہ کراچی اسلامک اسٹڈیز کے ڈین (پروفیسر) ڈاکٹرشکیل اوج زخمی ہوگئے تھے جنہیں اسپتال منتقل کیا گیا لیکن وہ زخموں کی تاب نہ لاتے ہوئے دم توڑ گئے تھے۔

وقوعہ کے وقت مقتول کے ہمراہ ان کی صاحبزادی پروفیسرآمنہ اور ایک ساتھی پروفیسر بھی تھے، پروفیسر آمنہ کو بھی ایک گولی لگی تھیں تاہم وہ محفوظ رہیں۔ واقعے کے وقت تمام افراد ایرانی سفارتخانے کی ایک تقریب میں شرکت کے لیے جارہے تھے۔

اس وقت کے وائس چانسلر جامعہ کراچی ڈاکٹر قیصر کا کہنا تھا کہ پروفیسر شکیل اوج کی شہادت سے نہ صرف جامعہ کراچی بلکہ پورے ملک کا نقصان ہے، وہ ایک بہت قابل انسان تھے، وہ بہت سی کتابوں کے مصنف بھی تھے، ان کی تعلیمی خدمات کے پیشِ نظر حال ہی میں حکومت کی جانب سے انھیں ستارہ امتیاز کے لئے نامزد بھی کیا گیا تھا۔

واضح رہے کہ ڈاکٹرشکیل نے تھانہ مبینہ ٹاؤن میں یونیورسٹی کے ایک ساتھی کےخلاف درخواست دے رکھی تھی اور اس معاملے کے مختلف پہلوؤں کا جائزہ لینے کے لیے پولیس نے ایک خصوصی ٹیم بھی تشکیل دی تھی اور قاتلوں کی نشاندہی پر 20 لاکھ روپے انعام کا اعلان بھی کیا تھا۔

ڈاکٹر شکیل اوج کے قتل کے چند ماہ بھی پولیس نے پیشہ ور قاتلوں کے ایک گروہ کے رکن منصور نامی زشخص کو گرفتار کرنے کا دعویٰ کیا تھا جس کا تعلق سیاسی جماعت سے بتایا گیا تھا۔ پولیس کا دعویٰ تھا کہ مذکورہ گروہ ڈاکٹر شکیل اوج‘ پروفیسر سبط جعفر اور کئی دیگر قابل شخصیات کے قتل میں ملوث ہے۔

گزشتہ برس ڈاکٹر شکیل واج کے قتل میں گرفتار ملزم کو عدالت نے عدم شواہد کی بنیاد پر بے گناہ قرار دے کر چھوڑ دیا تھا جس پر اُن کے صاحبزادے کا کہنا تھا کہ کالعدم جماعتوں کے خلاف جو بھی ثبوت تھے وہ پیش کردیے مگر اصل ملزمان کے خلاف کارروائی عمل میں نہیں لائی گئی۔