Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
بھارتی دراندازی "ایف سولہ بھی استعمال ہوا تب بھی بھارت کے ہی دو جہاز تباہ ہوئے" | زرائع نیوز

بھارتی دراندازی “ایف سولہ بھی استعمال ہوا تب بھی بھارت کے ہی دو جہاز تباہ ہوئے”

بھارتی حکومت اور فوج کی جانب سے متعدد بار یہ الزام عائد کیا گیا کہ پاکستان نے جنگی طیارہ ایف 16 استعمال کر کے بھارتی فضائیہ کے جہازوں کو نشانہ بنایا اور دراندازی کو ناکام بنایا۔

بھارت نے اس حوالے سے اپنی میڈیا پر متعدد پروپیگنڈے بھی کیے حتیٰ کہ ایک چینل نے تو نسوار کی پڑیا پر بنی ایف 16 طیارے کی تصویر تک دکھائی اور اسی کو بطور ثبوت فراہم کیا۔

گزشتہ دو ماہ قبل ہونے والی دراندازی کے نتیجے میں پاک فضائیہ نے دو بھارتی طیاروں کو نشانہ بنایا تھا جن میں سے ایک کا ملبہ ہندوستان کے زیر اثر کشمیر اور دوسرے کا پاکستانی فضائی حدود میں گرا، پاکستانی حدود میں تباہ ہونے والے جہاز کے پائلٹ ابھی نندن کو زندہ سلامت حراست میں بھی لیا گیا تھا، جسے بعد ازاں وزیراعظم نے جذبہ خیرسگالی کے تحت چھوڑنے کا اعلان کیا۔

ایک روز قبل بھارتی دفاع نے دعویٰ کیا کہ اُن کے ریڈار سسٹم پر یہ ریکارڈ موجود ہے کہ پاکستان نے ایف سولہہ طیارے ہی استعمال کیے، جبکہ اس ضمن میں پاکستان پہلے ہی وضاحت پیش کرچکا ہے کہ پہلے تو استعمال نہیں ہوئے اور اگر ہوئے بھی تو ہم نے امریکا سے خریداری کے وقت کوئی بھی ایسا معاہدہ طے نہیں کیا۔

ایک روز قبل پاک فوج کے ترجمان اور ڈائریکٹر جنرل میجر جنرل آصف غفور نے ایف سولہہ استعمال کے حوالے سے ایک دلچسپ جواب دیا۔

پاک فوج کے ترجمان کی جانب سے جاری اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ یہ سوال بے معنی ہے کہ دو بھارتی جہازوں کو ‘ایف 16’ نے نشانہ بنایا یا ‘جے ایف 17’ نے، جو کچھ بھی استعمال ہوا اُس میں درحقیقت بھارتی جہاز ہی نشانہ بنے۔

پاک فوج کے شعبہ تعلقات عامہ (آئی ایس پی آر) کی جانب سے بیان میں کہا گیا ہے کہ حالیہ کشیدگی کے دوران پاکستان نے ایک بار پھر ایف 16 طیارے کو نشانہ بنانے اور انہیں استعمال کے معاملے پر بھارتی دعوؤں کا حوالہ دیتے ہوئے دوٹوک مؤقف اختیار کیا۔

میجر جنرل آصف غفور کا کہنا تھا کہ ‘ 27 فروری کا واقعہ تاریخ کا حصہ بن چکا ہے۔’

آئی ایس پی آر کے بیان میں یہ بات واضح لکھی گئی ہے کہ ‘پاکستان کا کوئی ایف 16 طیارہ بھارتی فضائیہ کا نشانہ نہیں بنا، لائن آف کنٹرول (ایل او سی) کے اُس پار کارروائی پاکستان فضائی حدود کے اندر سے جے ایف 17 تھنڈر طیاروں نے کی، بعد میں جب دو بھارتی جہازوں نے کنٹرول لائن کی خلاف ورزی کی تو انہیں پاک فضائیہ نے نشانہ بنایا۔’

آئی ایس پی آر کا کہنا تھا کہ ‘یہ سوال بے معنی ہے کہ ان دو بھارتی جہازوں کو ایف سولہ نے نشانہ بنایا یا جے ایف 17 نے، جب بھارتی جہاز آئے تو فضائیہ کے تمام جہاز بشمول ایف 16 فضا میں موجود تھے، اصل بات یہ ہے کہ پاک فضائیہ نے دونوں بھارتی جہازوں کو اپنے دفاع میں مار گرایا۔’

بیان میں بھارت کو چیلنج دیا گیا ہے کہ وہ اپنی خواہش کے مطابق کوئی بھی جہاز حتیٰ کہ ایف 16 چن لے نتیجے پر فرق نہیں پڑتا، اگر ایف 16 استعمال ہوا تب بھی دو بھارتی جہاز ہی نشانہ بنے جبکہ پاکستان نے اپنی مرضی اور صلاحیت کے مطابق سرزمین کا دفاع کیا۔