سندھ اسمبلی میں جمعہ کو ایوان کی کارروائی کے دوران پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی جمال صدیقی اوروزیربلدیات سعید غنی آمنے سامنے آگئے، کرپشن کا الزام عائد ہونے پر پی پی رہنما نے جمال صدیقی کو کھلا چیلنج دے دیا۔
کراچی سندھ اسمبلی میں جمعہ کو روز ایوان کی کارروائی کے دوران پی ٹی آئی کے رکن اسمبلی جمال صدیقی اوروزیربلدیات سعید غنی آمنے سامنے آگئے اور ان دونوں کے درمیان خاصی گرما گرمی ہوئی اورتلخ جملوں کابھی تبادلہ ہوا۔ پی ٹی آئی کے ایم پی اے جمال صدیقی نے اپنے حلقے میں پانی کی شدید قلت پر توجہ دکاﺅ نوٹس پیش کرتے ہوئے کہا کہ حلقے میں غیرقانونی ہائیڈرنٹس بھی موجود ہیں حکومت نے اس مسئلے کو حل کرنے کے لیئے کوئی اقدام نہیں کیا۔
جمال صدیقی کے اس توجہ دلاﺅ نوٹس پر وزیر بلدیات نے یہ کہتے ہوئے اعتراض اٹھا یا کہ رولز کے مطابق جس معاملے ایک مرتبہ ایوان میں پیش ہوجائے تو دوبارہ زیر بحث نہیں لایا جاتا،مجھ پرآج الزام لگایا گیا ہے جواب دینا مناسب سمجھتا ہوں۔ ایوان میں اظہار خیال کرتے ہوئے وزیر بلدیات کا کہنا تھا کہ ’’میں واضع کرتا ہوں پورے سندھ میں ہائیڈرنٹس سے پیسے نہیں لئے اگر لئے تو مجھ سے بڑا لعنتی کوئی نہیں ہوگا ورنہ جھوٹا الزام لگانے والا خود لعنتی ہوگا، میں نے فاضل ممبر کے بھائی کو اس لیئے ہٹایا وہ چوبیس گھنٹے شراب پیتا تھا اور آفس میں بیٹھ کر بھی شراب نوشی کرتا تھا‘‘۔
https://zaraye.com/saeed-ghani-visited-civic-center-today/
ایوان میں سعید غنی کے ریمارکس پر گرماگرمی شروع ہوئی تو انہوں نے کہا کہ ’’اگر مجھ پر حملہ کیا جائے گا تو جواب بھی دوں گا، ذاتی حملہ کیا گیا اور الزام تھوپا کیا گیا‘‘۔ سعید غنی نے غصے میں آکر کہا کہ میں نے فاضل ممبر کے بھائی ڈی جی کے ڈی اے سمیع صدیقی کو عہدے سے اس لیے برطرف کیا کیونکہ وہ چوبیس گھنٹے شراب کے نشے میں دھت رہتا تھا، سرکاری دفتر میں دفتری اوقات میں بھی شراب نوشی اُس کا مشغلہ تھا۔
سعید غنی کے اس انکشاف پر ایوان میں اپوزیشن ارکان مشتعل ہوگئے اور انہوں نے وزیر بلدیات سے معافی مانگنے کا مطالبہ کیا، سعیدغنی نے کہا کہ میں کسی سے ہر گز کوئی معافی نہیں مانگوں گا اور اپنے بیان پر قائم ہوں، جس پر اپوزیشن کی جانب سے دھمکی دی گئی کہ اگر معافی نہیں مانگی گئی تو ہم واک آﺅٹ کریں گے ۔ اپوزیشن ارکان ایوان میں شور شرابہ کرنے کے بعد واک آﺅٹ کرگئے۔
سعید غنی نے کہا کہ سمیع صدیقی جب ڈی جی کے ڈی اے تھے تو وہ پیسے لیتے ہوں گے اپنے بھائی سے فاضل ممبر پوچھیں کتنے پیسے لیتے تھے، آپ کے بھائی کو اس لئے ہٹایا گیا کہ وہ سارا دن ٹن رہتا تھا انہوں نے یہ بھی کہا کہ سمیع صدیقی کے ڈے اے کے دفتر میں بیٹھ کر شراب پیتا تھا۔
وزیر بلدیات نے انکشاف کیا کہ ’’میرے ساتھ کے ڈی اے کے ڈی جی سمیع صدیقی اجلاسوں میں بھی شراب پی کر بیٹھے تھے ،میں نے ان کو کئی بار منع کیا، میں اس بات کو بیان نہیں کرنا چاہتا تھا مگر مجھ پر نام لے کر الزام عائد کیا گیا جو ناقابلِ برداشت ہے، اس کے ثبوت فراہم کریں تو تسلیم کرلوں گا۔ اجلاس کے دوران صوبائی وزیر بلدیات سعید غنی نے اپنے ایک پوائنٹ آف آرڈر پر ایوان میں جمعہ کو پیش آنے والی ناخوشگوار صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ میں ایوان میں کلمہ پڑھ کرکہتا ہوں میری ذات پر الزام لگائے گئے۔
انہوں نے کہا کہ میرے ساتھ کے ڈی اے کے ڈی جی سمیع صدیقی اجلاسوں میں بھی شراب پی کر بیٹھے تھے ،میں نے ان کو کئی بار منع کیا اور آئندہ ایسا کرنے سے روکا مگر منع کے باوجود ڈی جی تین مرتبہ اسی حالت میں اجلاس میں شریک ہوتے رہے سعید غنی نے کہا کہ میرا قصور صرف یہ ہے کہ میں نے غلط کام سے روکا جس کے باعث مجھ پر الزام لگائے گئے ۔
https://zaraye.com/karachi-situation-debate/
ان کا کہنا تھا کہ میں جذبات پر معافی بھی مانگ لوں گا مگر اس سے پہلے مجھ سے معافی مانگی جائے ،میں سیدھا آدمی ہوں اور صاف بات کرتا ہوں سعید غنی نے کہا کہ مجھ پر نام لیکر الزام لگایا گیا یہ ناقابل برداشت ہے ۔میں ثبوت مانگتا ہوں اگر کوئی ثبوت ہے تومیں مان لوں گا۔اگر کسی کو بچانے اور لگوانے کے لئے دبانے کی کوشش کی گئی تو اسے کسی صورت قبول نہیں کروں گا۔
ایوان میں پی پی کی خاتون رکن اسمبلی تنزیلہ قمبرانی نے اپنے ایک توجہ دلاﺅ نوٹس کے ذریعے دریافت کیا کہ اساتذہ کی تربیت کے لیے کس ادارے سے معاہدہ کیا گیا؟۔
وزیر تعلیم سندھ سردار شاہ نے بتایا کہ پاکستان بھر میں اساتذہ کی تربیت کے لیئے کو عالمی معیار کا تربیتی ادارہ نہیں تھا، حکومت سندھ نے فن لینڈ سے ایک ماہر تعلیم کی ٹیم اور ادارے سے رابطہ کیا ہے ،ہم جولائی سے سینٹر کا آغاز کررہے ہیں اس سے صوبے کی تعلیم کا معیار بہتر بنانے کے لیے اقدامات کررہے ہیں۔
