Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
کتاب کا عالمی دن پاکستان کے لیے تشویش کا باعث کیوں؟ | زرائع نیوز

کتاب کا عالمی دن پاکستان کے لیے تشویش کا باعث کیوں؟

آج دنیا بھر میں کتاب کا عالمی دن  منایا جارہا ہے جس کا مقصد دوسروں کو حاصل ہونے والے علم کی اہمیت اور افادیت سے آگاہ کرنا ہے تاکہ وہ فائدہ اٹھا سکیں۔ اقوام متحدہ نے سنہ 1995 میں یہ اعلان کیا تھا کہ ہر سال 23 اپریل کو کتاب کا عالمی دن یعنی World Book Dayمنایا جائے گا۔

کتابوں کی اہمیت کے حوالے سے برطانیہ اور آئرلینڈ میں باقاعدہ مارچ کے مہینے میں اس روز کو زمانہ قدیم سے منایا جارہا ہے۔ اس دن کی اہمیت کو اجاگر کرنے والے مصنف کیلول اینڈریس تھے جنہوں نے میجول ڈی کریونٹیس نامی مشہورِ زمانہ کتاب لکھی اور دنیا کو راغب کیا کہ وہ اسے پڑح کر استفدادہ کریں بعد ازاں شیکسپیئر نے بھی 23 اپریل کو ہی کتابوں سے منسوب کرنے پر زور دیا۔

دنیا بھر میں کتب بینی کا شوق پایا جاتا ہے، ترقیات یافتہ ممالک میں بسنے والے شہریوں کو جب بھی وقت ملتا ہے وہ کتاب سے استفادہ کرتے ہیں، جیسے کہ اگر ٹرین میں کہیں جانا ہو یا پھر کسی کا انتظار کرنا ہو تو وہ اس دورانیے کو کتاب کے مطالعے میں ہی گزارنے کو ترجیح دیتے ہیں۔ یہ بھی حقیقت ہے کہ عصرِ حاضر میں ہونے والی سائنسی ترقی کے بعد کتاب کی فروخت دنیا بھر میں متاثر ہوئی پاکستانی مارکیٹ بہت حد تک پیچھے چلی گئی۔

حال ہی میں گیلپ اور گیانی پاکستان نے ایک سروے کیا جس میں ہزاروں لوگوں سے کُتب بینی یا مطالعے کے حوالے سے پوچھا گیا۔ حیران کُن انکشاف نتائج مرتب کرتے وقت ہوا۔

سروے رپورٹ میں یہ بات سامنے آئی کہ 75 فیصد پاکستانی کتابوں سے دور رہتے ہیں اور صرف 9 فیصد لوگ مطالعے کا شوق رکھتے ہیں، حیران کُن طور پر کُتب بینی کا شوق رکھنے والوں میں سے بھی طالب علموں کی تعداد زیادہے جبکہ تین فیصد معلوماتی کتابیں پڑھتے ہیں۔

سروے میں سوال پوچھا گیا تھا کہ ’آپ دن میں کتنے گھنٹے کتاب پڑھتے ہیں؟ ۔ ان کتابوں میں نصابی، مذہبی، افسانے، شاعری، و دیگر شامل تھیں۔

رپورٹ میں بتایا گیا ہے کہ سوال کے جواب میں 75 فیصد نے صاف انکار کرتے ہوئے بتایا کہ وہ کتابیں پڑھتے ہی نہیں جبکہ 9 فیصد میں سے ایسے تھے جو یومیہ ایک، دو، تین چار یا اُس سے زائد وقت تک بحالتِ مجبوری یا شوقیہ مطالعہ کرتے ہیں۔

گیلانی ریسرچ فاؤنڈیشن کا حالیہ سروے گیلپ انٹرنیشنل سے منسلک گیلپ پاکستان کی مدد سے کیا گیا تھا۔