Notice: Function _load_textdomain_just_in_time was called incorrectly. Translation loading for the insert-headers-and-footers domain was triggered too early. This is usually an indicator for some code in the plugin or theme running too early. Translations should be loaded at the init action or later. Please see Debugging in WordPress for more information. (This message was added in version 6.7.0.) in /home/zarayeco/public_html/wp-includes/functions.php on line 6131
ہمارا دل نہیں‌ چاہتا کوئی شخص لاپتہ ہو مگر۔۔۔۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے حقیقت بتا دی

ہمارا دل نہیں‌ چاہتا کوئی شخص لاپتہ ہو مگر۔۔۔۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے حقیقت بتا دی

میجر جنرل آصف غفور نے مسنگ پرسنز کے حوالے سے بھی جو مؤقف اپنایا اُس پر انہیں سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’ہمارا دل نہیں چاہتا کوئی شخص لاپتہ ہو مگر جنگ اور محبت میں ہر چیز جائز ہے‘‘۔

تنقید کرنے والوں نے اس بیان پر طرح طرح کے تبصرے کیے اور سوال کیا کہ شہریوں سے کون سی جنگ ہے، دستور اور قانون کی حکمرانی پر اگر شہریوں کو اس طرح لاپتہ کیا گیا تو پھر ابھی نندن کو کیوں رہا کیا گیا۔

واضح رہے کہ ملک بھر میں لاپتہ اور جبری گمشدگیوں کا معاملہ بہت سنگین ہے، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنان کو لاپتہ کردیا جاتا تھا جس کے بعد اُن کے مقدمات بھی درج نہیں ہوتے تھے۔

https://zaraye.com/missing-persons-case-hearing-ihc/

بالخصوص اگر کراچی کی بات کی جائے تو یہاں پر لاپتہ ہونے والا شخص اگر اپنی سیاسی وفاداری تبدیل کرنے پر رضا مند نہیں ہوتا تو اُسے ماورائے عدالت بھی قتل کیا گیا، ماضی میں ایم کیو ایم ک کئی کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ فاروق ستار کے معاون اور سیکریٹری کو بھی قتل کیا گیا جس کا اعتراف ڈی جی رینجرز نے خود کرتے ہوئے تفتیشی ٹیم بنائی علاوہ ازیں پروفیسر حسن ظفر عارف سمیت متعدد مذہبی و سیاسی جماعت کے کارکنان کو مار کر کئی گھروں کو اجاڑا گیا۔

میجر جنرل آصف غفور کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا کہ جب شیعہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے کراچی میں صدر پاکستان کے گھر کے  باہر دھرنا دیا ہوا ہے اور اُن کا مطالبہ ہے کہ ڈیڑھ سو سے زائد نوجوانوں بشمول صحافیوں کے سب کو فوری رہا کیا جائے۔

https://zaraye.com/5716-2/