میجر جنرل آصف غفور نے مسنگ پرسنز کے حوالے سے بھی جو مؤقف اپنایا اُس پر انہیں سوشل میڈیا پر تنقید کا نشانہ بنایا گیا۔ ڈی جی آئی ایس پی آر نے کہا کہ ’ہمارا دل نہیں چاہتا کوئی شخص لاپتہ ہو مگر جنگ اور محبت میں ہر چیز جائز ہے‘‘۔
ہمارا دل نہیں چاہتا کوئی شخص لاپتہ ہو مگر۔۔۔۔۔ آصف غفور نے کچھ کہا بھی نہیں اور سب کہہ بھی دیا pic.twitter.com/OibcsM0ohB
— ذرائع نیوز (@ZarayeNews) April 29, 2019
تنقید کرنے والوں نے اس بیان پر طرح طرح کے تبصرے کیے اور سوال کیا کہ شہریوں سے کون سی جنگ ہے، دستور اور قانون کی حکمرانی پر اگر شہریوں کو اس طرح لاپتہ کیا گیا تو پھر ابھی نندن کو کیوں رہا کیا گیا۔
واضح رہے کہ ملک بھر میں لاپتہ اور جبری گمشدگیوں کا معاملہ بہت سنگین ہے، سیاسی و مذہبی جماعتوں کے کارکنان کو لاپتہ کردیا جاتا تھا جس کے بعد اُن کے مقدمات بھی درج نہیں ہوتے تھے۔
https://zaraye.com/missing-persons-case-hearing-ihc/
بالخصوص اگر کراچی کی بات کی جائے تو یہاں پر لاپتہ ہونے والا شخص اگر اپنی سیاسی وفاداری تبدیل کرنے پر رضا مند نہیں ہوتا تو اُسے ماورائے عدالت بھی قتل کیا گیا، ماضی میں ایم کیو ایم ک کئی کارکنان کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا۔ فاروق ستار کے معاون اور سیکریٹری کو بھی قتل کیا گیا جس کا اعتراف ڈی جی رینجرز نے خود کرتے ہوئے تفتیشی ٹیم بنائی علاوہ ازیں پروفیسر حسن ظفر عارف سمیت متعدد مذہبی و سیاسی جماعت کے کارکنان کو مار کر کئی گھروں کو اجاڑا گیا۔
میجر جنرل آصف غفور کا یہ بیان اُس وقت سامنے آیا کہ جب شیعہ لاپتہ افراد کے اہل خانہ نے کراچی میں صدر پاکستان کے گھر کے باہر دھرنا دیا ہوا ہے اور اُن کا مطالبہ ہے کہ ڈیڑھ سو سے زائد نوجوانوں بشمول صحافیوں کے سب کو فوری رہا کیا جائے۔
https://zaraye.com/5716-2/
