کراچی: مسلم لیگ ن کے رہنما اور سابق گورنر سندھ محمد زبیر نے انکشاف کیا کہ جب تحریک انصاف کی حکومت آئی تو مجھے آئینی طور پر عہدے سے ہٹایا گیا اور پھر پی ٹی آئی کی ایک اہم شخصیت نےپارٹی میں شمولیت اور عہدہ برقرار رکھنے کی پیش کش کی۔
اے آر وائی نیوز کے پروگرام پاور پلے میں گفتگو کرتے ہوئے محمد زبیر نے دعویٰ کیا کہ انہیں تحریک انصاف کی بہت معتبر شخصیت نے شمولیت اور عہدہ برقرار رکھنے کی دعوت دی مگر انہوں نے خاندانی پاس رکھتے ہوئے اُسے قبول نہیں کیا۔
انہوں نے مزید بتایا کہ پیش کش دینے والے سے پوچھا کہ اس حوالے سے عمران خان کو علم ہے تو انہوں نے بولا آپ مجھے جانتے ہیں کہ میں اتنی بڑی بات اپنی مرضی سے نہیں کرسکتا۔
محمد زبیر نے کہا کہ میری تعلیم ، قابلیت اور تجربہ تحریک انصاف کے موجودہ منسٹرز اور رہنماؤں سے کہی زیادہ ہے اور جس دن بھی چاہوں شمولیت کر کے اپنی مرضی کا عہدہ لے سکتا ہوں، یہ پیش کش تاحال موجود ہے مگر میں اپنے خاندان کا پاس رکھوں گا کیونکہ میں سیاسی ورکر ہوں اور ادھر سے اُدھر بھاگنے والا نہیں ہوں۔
دوسری جانب وزیراعظم کے معاونِ خصوصی ندیم افضل چن نے محمد زبیر کے اس بیان پر انہیں پارٹی میں شمولیت کی بات کرنے پر جوائن کرنے کا کہا اور بتایا کہ اگر ایسا ہوا تو وہ انہیں خوش آمدید کہیں گے۔
