پاکستان بار کونسل نے پاک فوج کے ترجمان اور ڈی جی آئی ایس پی آر میجر جنرل آصف غفور کی پریس کانفرنس پر ردعمل دیتے ہوئے اُسے غیر آئینی اور غیر قانونی قرار دے دیا۔
ڈی جی آ یس پی آ ر کی حالیہ میڈیا بریفنگ پر پاکستان بار کونسل کا ردعمل دیتے ہوئے کہنا تھا کہ ’’ جمہوری ملک میں ہر ادارے کا آئین میں کردار واضح ہوتا ہے، ”آ ئینی طور پر سیاسی جماعتوں پر بیان دینا یا کارروائی کرنے کا حق اور اختیار حکومت کی ذمہ داری ہے۔“
اعلامیے میں کہا گیا ہے کہ حکومت کے علاوہ ملک کے کسی بھی ادارے کو سیاسی جماعت کے خلاف بیان جاری کرنے یا کارروائی کا اختیار نہیں، اس لئے ڈی جی آ ئی ایس پی آر ایک سیاسی جماعت کے بارے میں بات کرنا اپنے مینڈیٹ سے تجاوز ہے اور انتظامیہ کے اختیارات میں مداخلت کرنے کے مترادف ہے۔ انہوں نے یہ بھی لکھا کہ ”مینڈیٹ سے باہر ہونے کی بنا پرڈی جی آ ئی ایس پی آ ر کا بیان قابل مذمت ہے۔“
پاکستان میں وکیلوں کو لائسنس جاری کرنے والی ملک گیر تنظیم پاکستان بار کونسل نے فوج کے ترجمان میجر جنرل آصف غفور کی حالیہ پریس کانفرنس میں سیاسی جماعت کے بارے میں کی گئی باتوں کی مذمت کرتے ہوئے اسے آئینی حدود سے تجاوز قرار دیا ، پاکستان بار کونسل کی جانب جاری کیے گئے بیان میں ڈی جی آئی ایس پی آر کے سیاسی جماعت حوالے بیان میں کہا گیا ہے کہ حکومت اور ریاستی معاملات چلانا سول انتظامیہ کی ذمہ داری ہے ۔
پاکستان بار کونسل کے وائس چیئرمین سید مجد شاہ کا کہنا ہے سیاسی جماعت بار ے آئی ایس پی آر کا بیان مینڈیٹ کی خلاف ورزی ہے ۔
ایک مداح کی جذباتی تحریر، آصف غفور پاکستان کے بہترین ڈی جی آئی ایس پی قرار
