پشاور: جمعیت علماء اسلام ف نے الزام عائد کیا ہے کہ حکومت نے مولانا فضل الرحمان سے سیکیورٹی واپس لے لی اگر انہیں کچھ ہوا تو ذمہ داری حکمرانوں پر عائد ہوگی۔
مولانا عبدالغفورحیدری نے پارلیمانی لاجزمیں میڈیاسےگفتگو کرتے ہوئے کہا کہ موجودہ حکومت مولانافضل الرحمان سےخوف زدہ ہے، حکمران انتقامی کارروائی کررہے ہیں، مولانافضل الرحمان کےگھرسےپولیس کی سیکیورٹی کوہٹا دی گئی۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ وزیراعظم ،وزیرداخلہ،وزیراعلیٰ کےحکم پرسیکیورٹی واپس لی گئی، مولانافضل الرحمان اورمجھ سمیت دیگررہنماؤں پرخود کش حملےہوئے مگر پھر بھی حکومت اپنے اقدامات سے باز نہیں آرہی۔
اُن کا کہنا تھا کہ ملک کی معاشی صورتحال بدترین ہو چکی ہے، دن بدن مہنگائی اوربیروزگاری بڑھتی جا رہی ہے،ملک کوداخلی وخارجی سمیت بےشمارچیلنجزکاسامناہے جب ہم یہ تمام حقائق اور سچ عوام کو بتاتے ہیں تو حکومت اور مقتدر حلقے انتقامی کارروائی کرتے ہیں۔ آصف علی زرداری نے بھی مولانا کی سیکیورٹی واپس لینے پر تحفظات کا اظہار کیا اور فوری اہلکار فراہم کرنے کا مطالبہ کیا۔ دوسری جانب ڈی آئی جی پشاور نے جمعیت علماء اسلام (ف) کے دعوے کو جھوٹا قرار دیا۔
اُن کا کہنا تھا کہ فضل الرحمان کوسیکیورٹی کیلئے22اہلکاردےرہےہیں، اُن کو 18 اہلکار ڈسٹرکٹ پولیس جبکہ 4 ریزور پولیس کے دیے جبکہ اُن کی رہائش گاہ پر بھی محافظ تعینات ہیں۔
