کراچی کی مقامی عدالت میں جامعہ کراچی جنسی ہراسانی کیس کی سماعت ہوئی جس میں پروفیسر اسامہ شفیق پیش ہوئے۔ایکسپریس نیوز کے مطابق عدالت نے پروفیسرز کے خلاف کوئی بھی خبر چلانے سے روک دیا۔

کراچی یونیورسٹی کے شعبہ ابلاغِ عامہ کے حوالے سے خبریں زیرگردش ہیں کہ وہاں کے دو اساتذہ اسامہ شفیق اور نعمان انصاری طالبات کو ہراساں کرتے اور انہیں نازیبا پیغامات ارسال کرتے ہیں۔
جامعہ کراچی کے ترجمان سے جب اس حوالے سے رابطہ کیا گیا تو انہوں نے بتایا کہ انتظامیہ کے پاس کسی بھی طالبا کی تحریری درخواست موصول نہیں ہوئی، میڈیا پر شائع ہونے والی خبریں اُس وقت تک من گھڑت ہیں جب تک کوئی باضابطہ درخواست نہیں دیتا، اُس کے بعد ہی کارروائی عمل میں لائی جائے گی۔ ترجمان جامعہ کراچی نے آگاہ کیا کہ ہراسگی کے ماضی میں کچھ واقعات پیش آچکے جس کے بعد وہاں باقاعدہ سینئر اساتذہ پر مشتمل کمیٹیاں تشکیل دی گئیں ہیں جنہوں نے سحر انصاری کے کیس کی بھی تفتیش کی تھی۔
جامعہ کراچی: دو اساتذہ پر جنسی ہراسانی کے الزامات، اصل حقیقت سامنے آگئی
شعبہ ابلاغِ عامہ کے حوالے سے پھیلنے والی ہراسگی کی خبروں میں کس حد تک صداقت ہے اس حوالے سے ذرائع نیوز نے ماس کمیونیکشن کے ایک طالب علم سے رابطہ کیا، بوجہ اُس کا نام ظاہر نہیں کیا جارہا کیونکہ وہ ابھی زیر تعلیم ہے اور اُس کسی سیاسی جماعت سے کوئی تعلق نہیں ہے۔ ایک اور اہم بات بتانی بھی ضروری ہے کہ ماس کمیونیکشن کے طالب علم جس نے ہمیں تمام معلومات فراہم کیں اُن کی ہم نے دیگر ذرائع سے بھی تصدیق کرائی جس کے بعد اسے آپ تک پہنچانا بہت ضروری تھا۔ حالیہ واقعے میں تین کردار ہیں جن میں دو ٹیچر اسامہ شفیق اور نعمان انصاری جبکہ ایک طالب علم طہماس علی خان شامل ہیں اور وہ تین لڑکیاں بھی جن کو فی الحال ظاہر نہیں کیا جارہا۔
