اسلام آباد: 14 سالہ سگی بہن سے زیادتی کرنے والے درندہ صفت بھائیوں کو عدالت نے جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیج دیا۔
اطلاعات کے مطابق اسلام آباد گولڑہ کی رہائشی چودہ سالہ لڑکی کے ساتھ اُس کے تین بھائی گزشتہ دو برس سے مسلسل زیادتی کررہے تھے اور اُسے تشدد کا نشانہ بھی بناتے تھے۔
لڑکی نے ہمت کر کے بھائیوں کے خلاف مقدمہ درج کرایا جس کے بعد پولیس نے انہیں حراست میں لیا جبکہ ایڈوکیٹ فاطمہ زہرہ نے لڑکی کی جانب سے عدالت میں درخواست دائر کی اور بغیر فیس کے مقدمہ لڑا۔
تینوں بھائیوں نے گرفتاری کے لیے ضمانت عدالت سے رجوع کیا تھا جس پر ایڈوکیٹ نے دلائل دیے تو جج اس کو ماننے پر راضی ہوگئے اور ملزمان کی ضمانت منسوخ کرتے ہوئے انہیں جسمانی ریمانڈ پر جیل بھیجا۔
اسلام آباد کی سیشن جج کا کہنا تھا کہ ’’یہ کیس بچوں کے ساتھ ہونے والی زیادتی بھی زیادہ خطرناک ہے کیونکہ سگے بھائیوں نے اپنی بہن کی معذوری کا فائدہ اٹھایا، ہم اس معاملے پر ضمانت نہیں دے سکتے‘‘۔
دوسری جانب اہل خانہ لڑکی سے اصرار کررہے ہیں کہ وہ مقدمہ واپس لے لے تو اُسے گھر ، گاڑی، بنگلہ وغیرہ سب کچھ دیا جائے گا، لڑکی کو وکیل اور خاندانی لوگوں نے معاف کرنے کے پیغامات بھی بھیجے۔
عوام نے مطالبہ کیا ہے کہ تینوں ملزمان کو لٹکایا جائے تاکہ انسانیت سوز واقعات میں ملوث افراد سے معاشرے کو پاک کیا جائے۔
